مندرجات کا رخ کریں

قلب (تصوف)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قلب (عربی: القَلْب؛ انگریزی: The Spiritual Heart) تصوف، اسلامی عرفان اور علمِ اخلاق کی ایک محوری اصطلاح ہے، جس سے مراد انسان کا محض وہ ظاہری گوشت کا ٹکڑا (عضوِ صنوبری) نہیں جو سینے کے بائیں جانب واقع ہے اور خون کی گردش کا متکفل ہے، بلکہ وہ لطیفہٴ ربانیہ، جوہرِ مجرد اور باطنی و روحانی قوت (امراِ الٰہی) ہے جو انسان کے تمام تر باطنی احوال، معارف، انوار، ایمان اور اخلاقی کیفیات کا حقیقی مرکز اور مسکن ہے۔[1] اسلامی تصوف کے فکری اور سلوکی نظام میں قلب کو انسان کی پوری باطنی مملکت کا حاکم و بادشاہ، خداوندی انوار کی جلوہ گاہ اور تجلیاتِ ذات و صفات کا حقیقی "عرشِ الٰہی" قرار دیا گیا ہے؛ چنانچہ جسم و جوارح کے تمام افعال و حرکات اسی باطنی بادشاہ کے تابع اور مطیع ہوتے ہیں۔[2]

صوفیائے کرام کے نزدیک انسان کا باطنی تصفیہ ("تصفیہٴ قلب") ہی دراصل تزکیہٴ نفس، اصلاحِ اخلاق اور مقامِ معرفت و کشف کا بنیادی زینہ ہے، جس سے انسان کا باطن مادی کثافتوں، ہوائے نفسانی اور رذائلِ اخلاق سے پاک ہو کر "قلبِ سلیم" اور "قلبِ منور" کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید کی نصوص میں کلمہٴ قلب اور اس کے مشتقات (مثلاً: «إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ»، «أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ»، «إِنَّ فِي ذَلِك لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ» اور «مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلَبَيْنِ فِي جَوْفِهِ») ذاتِ باری تعالیٰ کی بارگاہ میں قلب کی مرکزیت، اس کی سلامتی اور اس کے تقلب و طمأنینت کو واشگاف فرماتے ہیں۔ احادیثِ نبویہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قلب کو جسم کی اصلاح کا محوری سبب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ» (سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ فاسد ہو جائے تو پورا جسم فاسد ہو جاتا ہے، سنو! وہ دل ہے)۔[3] اسی طرح باطنی فتاویٰ کی بابت فرمایا: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ» (تو اپنے دل سے فتویٰ طلب کر اگرچہ زبانی مفتی تجھے فتویٰ دیتے رہیں)۔[4] اسلامی عرفان کی امہات الکتب جیسے قوت القلوب از ابو طالب مکی، احیاء العلوم از امام غزالی، الرسالہ قشیریہ از ابو القاسم القشیری، عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی، کتاب اللمع از ابو نصر سراج طوسی، حلية الأولياء از ابو نعیم اصبہانی، تذکرة الأولیاء از فرید الدین عطار، شرح الحکم العطائیہ از ابن عجیبۃ، شرح فتوح الغیب از عبد القادر جیلانی و عبد الحق دہلوی، مکتوباتِ مجدد الف ثانی اور مثنویِ مولانا روم میں قلب کی لغوی و اشتقاقی حقیقت، روح اور نفس کے درمیان اس کی برزخی حیثیت، امراضِ قلب و تصفیہٴ باطن کے ادویہ، خواطر و وساوس کی تمیز اور مراتبِ قلوب کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔

لغوی اور نحوی اصل اور اشتقاقی حقیقت

[ترمیم]

لغوی معنی اور وجہ تسمیہ

[ترمیم]

لغوی اعتبار سے عربی زبان میں لفظ "قلب" کا مادہ "ق ل ب" ہے، جس کے بنیادی لغوی معانی الٹنا، پلٹنا، ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا، کسی شے کی باطنی مغز یا خالص ترین حصہ ہونا ہیں۔

صحابیِ رسول حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ، أَلَا وَإِنَّ الْمَثَلَ لِلْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ بِشَجَرَةٍ فِي فَضَاءِ الْأَرْضِ تُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ» (دل کا نام "قلب" اس کی مسلسل تبدیلی اور الٹ پلٹ کی بنا پر رکھا گیا ہے؛ دل کی مثال تو کھلے میدان میں کسی درخت پر لٹکے ہوئے اس پرندے کے پر کی سی ہے جسے ہوا الٹتی پلٹتی رہتی ہے)۔[5] رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ» (اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما)۔[6]

اصطلاحی اور عرفانی تعریف

[ترمیم]

اصطلاحِ تصوف میں "قلب" کی جامع تعریفات اکابرِ صوفیہ نے حسبِ ذیل بیان فرمائی ہیں:

امام ابو حامد الغزالی کی تنقیح: امام ابو حامد الغزالی احیاء العلوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ لفظ "قلب" کے دو معانی ہیں: پہلا معنیٰ صنوبر کی شکل کا وہ گوشت کا ٹکڑا ہے جو جسم کے بائیں جانب واقع ہے اور جس کے اندر سیاہ خون اور تجویف ہوتی ہے؛ یہ حیواناتی اور طبّی قلب ہے۔ لیکن تصوف کا حقیقی موضوع وہ دوسرا معنیٰ ہے جسے اللطيفة الربانية النورانية (ربانی اور نورانی لطیفہ) کہا جاتا ہے۔ یہ لطیفہ انسان کی اصل حقیقت ہے، وہی عالمِ امر کی امانت کا حامل، معرفتِ الٰہی کا مدرک اور بارگاہِ حق کا مخاطب ہے۔[1]

صاحبِ قوت القلوب کا قول: ابو طالب مکی قوت القلوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ قلب ملکوتِ الٰہی کی عظیم ترین خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، جس میں پروردگار نے عظمت، ہیبت اور معرفت کے انوار کو ودیعت فرمایا ہے۔[2]

علامہ ابن عجیبۃ کی تعریف: علامہ ابن عجیبۃ شرح الحکم میں تحریر فرماتے ہیں کہ قلب، عقل، روح اور نفس ایک ہی حقیقت (لطیفہٴ ربانیہ) کے مختلف اوصاف اور اطوار کے نام ہیں؛ جب وہ لطیفہ شہوات کی طرف مائل ہو تو نفس ہے، جب علوم کو اخذ کرے تو عقل ہے اور جب انوارِ الٰہیہ اور معرفت کو قبول کرے تو وہ قلب و روح ہے۔[7]

حقیقتِ قلب اور لطائفِ باطن

[ترمیم]

قلب بطورِ لطیفہٴ ربانیہ

[ترمیم]

علمائے عرفان کے نزدیک انسان کا باطن مختلف لطائف (نفس، قلب، روح، سرّ، خفی، اخفی) پر مشتمل ہے۔ ان لطائف میں قلب وہ مرکزی نقطہ ہے جو عالمِ خلق (جسم و عناصر) اور عالمِ امر (ارواح و انوار) کے درمیان برزخ اور واسطہ بنتا ہے۔

علامہ شہاب الدین سہروردی عوارف المعارف میں اور ابو طالب مکی قوت القلوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ قلب کی مثال ایک ایسے آئینے کی ہے جس کے دو رخ ہیں: اس کا ایک رخ باطنی روح (عالمِ غیب) کی طرف ہے جہاں سے وہ انوار، معارف اور الہامات حاصل کرتا ہے؛ اور اس کا دوسرا رخ نفس و قالب (عالمِ شہادت) کی طرف ہے جہاں وہ ان انوار و علوم کو اعضائے جوارح پر نافذ کرتا ہے۔[8]

تجویفِ باطن اور سویدائے قلب

[ترمیم]

حضرت سہل بن عبد اللہ تستری اور ابو طالب مکی قلب کی باطنی ساخت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قلب کی دو تجاویف (Cavities) ہیں:

  • تجویفِ ظاہری (ظاہرِ قلب): جس میں عقل اور استدلال کی قوت قائم ہے، جو معلومات اور ظاہری علوم کا احاطہ کرتی ہے۔
  • تجویفِ باطنی (باطنِ قلب / سویدائے قلب): یہ دل کا مرکزی سیاہ نقطہ یا "سویدائے قلب" اور "شغاف" ہے۔ اس باطنی تجویف میں باطنی بصارت اور باطنی سماعت قائم ہوتی ہے، جو بلا واسطہ انوارِ الٰہیہ، کشفِ تام اور محبتِ بالغه کو قبول کرتی ہے۔[9]

نسبتِ قلب با روح و نفس

[ترمیم]

علامہ سہروردی عوارف المعارف میں تحریر فرماتے ہیں کہ قلب کی تخلیق عالمِ امر میں روح اور نفس کے باہمی تعلّق سے ہوئی ہے۔ روح انسان کا علوی اور نورانی والد ہے، جبکہ نفس اس کی ترابی اور سفلی والدہ ہے۔

جب سالکِ طریقت زہد، تقویٰ اور کثرتِ ذکر سے اپنے باطن کی تربیت کرتا ہے، تو قلب اپنے علوی والد (روح) کی طرف مائل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سفلی والدہ (نفس) بھی مطیع و پاکیزہ ہو کر "نفسِ مطمئنہ" کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔[8]

قرآنی و حدیثی اصل اور صوفیانہ شواہد

[ترمیم]

قرآنی شواہد

[ترمیم]

قرآنِ مجید کی متعدد آیاتِ مبارکہ میں قلب کے احوال اور اس کی محوری حیثیت کو واضح کیا گیا ہے:

  • قلبِ سلیم: سورہٴ شعرا میں ارشاد فرمایا: «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ» (جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کی بارگاہ میں قلبِ سلیم لے کر حاضر ہوا)۔ صوفیہ فرماتے ہیں کہ قلبِ سلیم وہ دل ہے جو الشک، النفاق اور ماسوى اللہ کی تمام تر محبتوں سے پاک ہو۔
  • طمأنینتِ قلب: سورہٴ رعد میں ارشاد ہوا: «أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ» (سنو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان و طمأنینت حاصل ہوتی ہے)۔
  • بصیرتِ قلب: سورہٴ حج میں ارشاد فرمایا: «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» (پس حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں)۔
  • تذاکُرِ قلب: سورہٴ ق میں ارشاد ہوا: «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ» (بے شک اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس زندہ دل ہو)۔
  • عدمِ دُوئی: سورہٴ احزاب میں ارشاد فرمایا: «مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلَبَيْنِ فِي جَوْفِهِ» (اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے)؛ یعنی دل ایک ہی وقت میں دو متضاد محبتوں (خالق اور مخلوق) کا مسکن نہیں بن سکتا۔

احادیثِ نبویہ اور قدسی اشارات

[ترمیم]

احادیثِ نبویہ میں قلب کے خواص پر کثیر ارشادات وارد ہوئے ہیں:

  • حضرت نومان بن بشیر سے مروی متفق علیہ حدیث: «أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ... أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»۔[3]
  • حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ... الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ» (تو اپنے دل سے فتویٰ لے اگرچہ المفتون تجھے فتویٰ دیں، نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے)۔[4]
  • حدیثِ قدسی (جو صوفیانہ لٹریچر میں کثرت سے نقل ہوئی ہے): «لَمْ يَسَعْنِي أَرْضِي وَلَا سَمَائِي وَوَسِعَنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ» (مجھے میری زمین اور میرا آسمان اپنے اندر نہیں سما سکتے، جبکہ میرے مومن بندے کا دل مجھے اپنے اندر سما لیتا ہے)۔[10]

مراتب، امراض اور تصفیہٴ قلب

[ترمیم]

درجات و انواعِ قلوب

[ترمیم]

ابو طالب مکی قوت القلوب میں، علامہ حاتم الاصم اور علامہ سری سقطی کی روایات کی روشنی میں قلوب کے متعد مراتب بیان فرماتے ہیں:

  • قلبِ سلیم و اجرد (قلبِ مومن): وہ پاکیزہ اور صاف دل جس میں نورِ یقین کا چراغ روشن ہوتا ہے؛ یہ دنیاوی خواہشات اور ماسوى اللہ سے بالکل آزاد ہوتا ہے۔
  • قلبِ مريض (قلبِ عاصی): وہ دل جس میں ایمان اور نفاق یا نیکی اور معصیت دونوں کی جڑیں موجود ہوں؛ جس کی طرف سے غلبہ ہو جائے اسی کا حکم نافذ ہوتا ہے۔
  • قلبِ منكوس (قلبِ کافر): وہ الٹا اور اندھا دل جو کفر، عناد اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہو۔
  • قلبِ مغلوف (قلبِ منافق): وہ دل جو نفاق کے غلاف اور تالے میں بند ہو۔

اسی طرح حضرت سری سقطی فرماتے ہیں کہ باطنی ثبات کے لحاظ سے دل تین قسم کے ہیں:

  • مثلِ جبل: پہاڑ کی مانند مضبوط دل (خواص اور اولیاء کا دل) جسے وسوسوں اور حوادثِ روزگار کی ہوا ہلائے سے بھی نہ ہلا سکے۔
  • مثلِ شجرہ: درخت کی مانند دل (عام مومنین کا دل) جس کی جڑیں تو زمین میں ثابت ہوں لیکن ہوا سے شاخیں حرکت کرتی ہیں۔
  • مثلِ ورقه: سوکھے پتے کی مانند دل (اہلِ غفلت کا دل) جو ہر نفسانی ہوا اور وسوسے کے ساتھ دائیں بائیں اڑتا پھرتا ہے۔[2]

امراضِ قلب اور رین و غفلت

[ترمیم]

علمائے اخلاق کے نزدیک جسا م کی بیماریوں سے کہیں زیادہ مہلک باطنی امراضِ قلب ہیں۔

  • الرَّيْن (زنگ): کثرتِ گناہ سے دل پر جمنے والی سیاہی؛ حدیثِ نبوی کی روشنی میں جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے؛ اگر وہ توبہ کرے تو دل صیقل ہو جاتا ہے، ورنہ سیاہی پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے، جسے قرآن نے "رین" فرمایا ہے («كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ»)۔
  • القسوة (سختی): لمبی امیدوں اور ترکِ ذکر کی بنا پر دل کا پتھر کی طرح سخت ہو جانا۔
  • الغفلة و حب الدنيا: دنیا کی فانی رغبتوں میں محو ہو کر پروردگارِ عالم کی یاد سے غافل ہو جانا، جو تمام تر معاصی کی جڑ ہے۔

تصفیہٴ قلب کی ادویہٴ باطن

[ترمیم]

علامہ ابن عطاء اللہ اسکندری، علامہ احمد الانطاکی اور ابن عجیبۃ باطنی علاج اور تصفیہٴ قلب کے لیے پانچ بنیادی ادویہ بیان فرماتے ہیں:

  • مجالسة أهل الصلاح: باشرع اور عارفینِ کاملین کی صحبت و باطنی معیت اختیار کرنا۔
  • تلاوة القرآن بتدبر: تدبر اور حضورِ قلب کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا۔
  • خلو البطن (اکلِ حلال و کم خوری): حرام و مشتبہ لقمے سے پرہیز اور پیٹ کو خالي رکھنا۔
  • قیام اللیل و السحر: رات کے آخری حصے میں مناجات، استغفار اور تضرع کرنا۔
  • دوام الذکر باللسان والقلب: اسمِ ذات "اللہ" یا کلمہٴ طیبہ کے ذکر کا باطنی دوام قائم رکھنا۔[11]

خواطر، وساوس اور لماتِ باطنی

[ترمیم]

شش گانہ خواطر (شش حدودِ قلب)

[ترمیم]

ابو طالب مکی قوت القلوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ قلب کی سرحدوں پر چھ بنیادی اقسام کے خواطر کا ورود ہوتا ہے:

  • خاطرِ نفس (ہوائے نفس): نفسانی لذات اور عاجل حظوظ کی طلب جو طبعی جہل سے پیدا ہوتی ہے۔
  • خاطرِ عدو (وسوسہٴ شیطان): گناہوں اور بدعات کی مزین ترغیب جو شیطان کی طرف سے آتی ہے۔
  • خاطرِ روح: غیبی حقائق اور باطنی پاکیزگی کی طرف ابھارنے والا الہام۔
  • خاطرِ ملک (لمّة الملك): خیر، طاعت اور تصدیق بالحق کی طرف بلانے والی فرشتاتی ندائے باطن۔
  • خاطرِ عقل: نتائج، عواقب اور شرعی مصالح کی فکر پر مبنی خاطر۔
  • خاطرِ یقین (الہامِ حق): روحِ ایمان اور مزيدِ علم کا وہ قدسی نور جو براہِ راست پروردگار کی بارگاہ سے بلا واسطہ دل پر نازل ہوتا ہے۔[2]

لمۃ الملک اور لمۃ الشیطان کا فرق

[ترمیم]

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ نبوی کا فریم ورک صوفیہ کے ہاں بنیادی معیار تسلیم کیا جاتا ہے: «إِنَّ لِلَّشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً؛ فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ»۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ ہر وہ خاطر جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو اور جس میں نفس کی مخالفت پائی جائے، وہ خاطرِ رحمانی یا ملکی ہے؛ جبکہ ہر وہ خاطر جو شریعت کے خلاف ہو یا جس میں نفس کی فوری لذت شامل ہو، وہ خاطرِ شیطانی یا نفسی ہے۔[12]

مثنویِ معنوی اور مولانا روم کے افکار میں قلب

[ترمیم]

آئينہٴ دل اور صیقلِ باطن

[ترمیم]

مولانا روم دفتر اول اور دفتر دوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ انسان کا دل ایک شفاف آئینے کی مانند ہے؛ لیکن دنیاوی تعلقات، کینہ اور نفسانی ہوائے نفس نے اس پر زنگ کی تہ جما دی ہے:[13]

آئینہٴ دل چوں شو صافے و پاک ... نقش ہا بینی بروں از آب و خاک پنبعہٴ وسواس بروں کن ز گوش ... تا بگوشت آمد از گردوں خروش

(ترجمہ: وسوسوں کی روئی کو اپنے باطنی کان سے نکال پھینک تاکہ تیرے کان میں آسمانی نغمات اور ندائیں آنے لگیں)۔[13]

عرشِ دل اور قلبِ اولیاء

[ترمیم]

مولانا روم دفتر سوم میں حدیثِ قدسی کی عارفانہ شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عام انسانوں کے آلودہ دل اور اولیاء اللہ و انبیائے کرام کے سچے دل کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے:[14]

تو می گوئی مرا دل نیز ہست ... دل فرازِ عرش باشد نہ زِ ہست پاک گشتہ آں زِ گل صافے شدہ ... در فزونی آمدہ وائے شدہ

(ترجمہ: تو کہتا ہے کہ میرے پاس بھی دل ہے؛ ارے نادان! حقیقی دل تو عرشِ الٰہی کی بلندی پر ہوتا ہے نہ کہ پستی میں؛ وہ دل مٹی کی کثافتوں سے پاک صاف ہو کر انوارِ الٰہیہ کا مظہر بن چکا ہوتا ہے)۔[14]

مولانا روم مزید فرماتے ہیں کہ اولیاء کا دل ہی باری تعالیٰ کی نصوص کا حقیقی مظهر ہے، جہاں پروردگارِ عالم کی بے چون تجلیات نازل ہوتی ہیں:[14]

گفت خدا کہ منظرم بر دل است ... نیست بر صورت کہ آں آب و گل است

حاکمیتِ قلب بر اعضاء و جوارح

[ترمیم]

مولانا روم دفتر اول میں دل کی باطنی حاکمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور تمام حواسِ ظاہرہ اَپنے فیصلے کے لیے دل کے تابعِ فرمان ہیں:[15]

دست و پا در امرِ دل اندر بلا ... ہمچو اندر دستِ موسى آں عصا دل بخواہد پا در آید زو برقص ... یا گریزد سوئے افزونی زِ نقص

سلاسلِ تصوف میں تصفیہٴ قلب کا طریقہ کار

[ترمیم]

سلسلہٴ نقشبندیہ مجددیہ میں لطیفہٴ قلب

[ترمیم]

امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی مکتوباتِ شریف میں تحریر فرماتے ہیں کہ سلسلہٴ نقشبندیہ کا باطنی سلوک سب سے پہلے عالمِ امر کے پہلے لطیفے یعنی لطیفہٴ قلب (جو انسان کے بائیں تھن کے نیچے واقع ہے) کی تصفیہ سے شروع ہوتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ تصفیہٴ قلب کی بنیادی شرط "نسیانِ ما سوى" (اللہ تعالیٰ کے سوا تمام تر کائنات، نعمات اور خواہشات کا باطن سے محو ہو جانا) ہے۔ جب سالک کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اگر اسے تکلف کے ساتھ بھی غیر کا خیال دلانے کی کوشش کی جائے تو بھی اسے یاد نہ آئے، تو اسے سلامتیِ قلب کا پہلا قدم حاصل ہوتا ہے۔ مجدد الف ثانی تحریر فرماتے ہیں کہ قلبِ انسانی دراصل ایک ایسا عجوبہ اور مجموعہ ہے جو عالمِ خلق اور عالمِ امر کا جامع برزخ ہے اور اسی کے ذریعے انسان مقامِ قرب اور قاب قوسین تک رسائی حاصل کرتا ہے۔[16]

سلسلہٴ قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ کا طریقہٴ ذکر

[ترمیم]

حضرت غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی، شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی اور علامہ سہروردی عوارف المعارف میں تحریر فرماتے ہیں کہ سلاسلِ طریقت میں ذکرِ لسان کے بعد سالک کو "ذکرِ قلبی" (جس میں زبان ساکن ہوتی ہے اور دل کی دھڑکنیں نفی و اثبات یا اسمِ ذات کا ورد کرتی ہیں) کی مشق کرائی جاتی ہے۔

جب باطن پر سلطانِ ذکر کا غلبہ ہوتا ہے تو ذاکر کے دل سے غفلت کے پردے چاک ہو جاتے ہیں اور اسے الخلوة في الجلوة اور دوامِ حضور حاصل ہوتا ہے۔[8]

ثمراتِ تصفیہٴ قلب اور مقاماتِ عارفین

[ترمیم]

تصفیہٴ باطن اور سلامتیِ قلب حاصل ہونے پر سالکِ طریقت کو حسبِ ذیل عظیم الشان روحانی و اخلاقی ثمرات حاصل ہوتے ہیں:

  • دوامِ حضور اور طمأنینت: سالک کا دل دنیاوی اضطراب، خوف اور غم سے آزاد ہو کر پروردگارِ عالم کی دائمی معیت اور سکینہ سے معطر ہو جاتا ہے۔
  • فراستِ صادقہ اور کشفِ باطن: حدیثِ نبوی «اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ» کی روشنی میں جب دل کا آئینہ صیقل ہو جاتا ہے تو اس میں غیبی حقائق، احوالِ ارواح اور الٰہی اشارات منکشف ہونے لگتے ہیں۔
  • اخلاصِ تام اور ریاکاری کا خاتمہ: انسان کی تمام تر عبادات، افعال اور حرکات دنیاوی شہرت یا نفسانی اغراض سے پاک ہو کر خالص لوجہ اللہ ہو جاتی ہیں۔
  • تخلق بأخلاق الله: سالک کا باطن باری تعالیٰ کی صفاتِ جمالیہ (حلم، سخاوت، عفو، تواضع اور رحمدلی) کا جامع مظهر بن جاتا ہے اور اس کا وجود تمام مخلوقِ خدا کے لیے نفع بخش بن جاتا ہے۔


مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 الإمام أبو حامد محمد بن محمد الغزالي. إحياء علوم الدين. مطبعة لجنة نشر الثقافة الإسلامية، 1356ھ، ج 3، ص 20.
  2. 1 2 3 4 أبو طالب محمد بن علي العطية المكي. قوت القلوب في معاملة المحبوب. مكتبة دار التراث، 2001ء، ج 1، ص 367.
  3. 1 2 محمد بن إسماعيل البخاري. الجامع المسند الصحيح. دار طوق النجاة، 1422ھ، ج 1، ص 16.
  4. 1 2 أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي. مسند الدارمي. دار المغني، 1412ھ، ج 2، ص 246.
  5. ↑ أحمد بن حنبل. مسند أحمد. مؤسسة الرسالة، 1421ھ، ج 4، ص 102.
  6. ↑ محمد بن عيسى الترمذي. الجامع الكبير. دار الغرب الإسلامي، 1998ء، ج 5، ص 522.
  7. ↑ أحمد بن عجيبة الحسني. شرح الحكم العطائية (إيقاظ الهمم في شرح الحكم). دار المعارف، 1224ھ، ج 1، ص 301.
  8. 1 2 3 شهاب الدين أبو حفص عمر بن محمد السهروردي. عوارف المعارف. دار التقوى، 2022ء، ج 1، ص 291.
  9. ↑ أبو طالب محمد بن علي العطية المكي. قوت القلوب في معاملة المحبوب. مكتبة دار التراث، 2001ء، ج 2، ص 1128.
  10. ↑ إسماعيل بن محمد العجلوني. كشف الخفاء ومزيل الإلباء. دار الكتب العلمية، 1422ھ، ج 1، ص 269.
  11. ↑ أحمد بن عطاء الله السكندري. الحكم العطائية. دار المعارف، 1424ھ، ص 78.
  12. ↑ محمد بن عيسى الترمذي. الجامع الكبير. دار الغرب الإسلامي، 1998ء، ج 5، ص 452.
  13. 1 2 مولانا جلال الدين الرومي. مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ، مترجم: قاضی سجاد حسین. المكتبة الشرقية، 1974ء، دفتر 1، ص 118.
  14. 1 2 3 مولانا جلال الدين الرومي. مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ، مترجم: قاضی سجاد حسین. المكتبة الشرقية، 1974ء، دفتر 3، ص 326.
  15. ↑ مولانا جلال الدين الرومي. مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ، مترجم: قاضی سجاد حسین. المكتبة الشرقية، 1974ء، دفتر 1، ص 322.
  16. ↑ الشيخ أحمد الفروقي السرهندي. مكتوبات امام ربانی. مطبع مرتضوی، 1324ھ، ج 1، ص 171.