مقام (تصوف)
مقام (جمع: "مقامات") تصوف، عرفان اور سلوک کی ایک بنيادی اور مرکزی اصطلاح ہے، جس سے مراد وہ باطنی درجہ، اخلاقی کیفیت یا روحانی منزل ہے جو کسی سالک یا صوفی کے اندر باقاعدہ دینی احکام کی پابندی، زہد، ریاضت اور مجاہدۂ نفس کے نتیجے میں مستقل اور راسخ صفت (ملکہ) کے طور پر قائم ہو جاتی ہے۔[1] اسلامی تصوف کی روایت میں مقام اس پائیدار باطنی حالت کو کہتے ہیں جس پر سالک قدم جما کر قائم ہوتا ہے اور اس منزل کے تمام شرعی و اخلاقی آداب اور تقاضوں کو مکمل طور پر ادا کرنے کے بعد ہی اگلی روحانی منزل کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔[2]
عربی زبان میں لفظ "مقام" کا بنیادی مادہ "ق-و-م" ہے، جس کے لغوی معنی قیام کرنے، قدم جمانے، ثابت قدم رہنے اور کسی اعلیٰ مرتبے یا مجلس کے ہیں؛ اور تصوف میں اسے "مقام" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ سالک اس خاص معنوی درجے میں اقامت اختیار کرتا ہے اور اس کے احکام و آداب کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہے۔[3] علمائے معرفت کے نزدیک ہر انسان یا سالک کا باطن خدا کے حضور ایک مخصوص مرتبے پر قائم ہوتا ہے اور جب تک وہ اس درجے کی تمام شرائط اور واجبات کو مکمل طور پر بجا نہ لائے، اس کا اگلی منزل کی طرف منتقل ہونا ناقص تصور کیا جاتا ہے۔[4]
تصوف میں "مقام" کا بنیادی موازنہ "حال" (جمع: احوال) سے کیا جاتا ہے، جو صوفیانہ طریق کا ایک اور بنیادی تصور ہے۔[5] صوفیہ کے نزدیک حال وہ عارضی، غیر اختیاری اور ناگہانی کیفیت ہے جو سالک کے قلب پر بغیر کسی ذاتی مشقت اور کسب کے براہِ راست عطائے الٰہی کے طور پر طاری ہوتی ہے اور جلد زائل ہو جاتی ہے؛ جبکہ مقام وہ پائیدار اور راسخ صفت ہے جو سالک کی مسلسل جدوجہد، ریاضت اور قصدِ اختیاری سے حاصل ہوتی ہے۔[5] اس بنیادی فرق کو صوفیہ کے اس مشہور سنہری مقولے میں بیان کیا گیا ہے کہ "الأحوال مواهب والمقامات مكاسب" (یعنی احوال الٰہی مواہب و عطیات ہیں جبکہ مقامات انسانی کسب و ریاضت ہیں)۔[1]
کلاسیکی صوفیانہ لٹریچر، جیسے ابونصر سراج کی "کتاب اللمع"، ابو طالب مکی کی "قوت القلوب"، ابو القاسم قشیری کی "الرسالة القشيرية"، علی بن عثمان ہجویری کی "کشف المحجوب اور خواجہ عبد اللہ انصاری کی "منازل السائرين"، میں مقامات کی تدریجی ترتیب اور سلسلۂ منازل کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔[6] سلوکِ الٰہی کے ان بنیادی مقامات میں سب سے پہلا قدم توبہ ہے، جس کے بعد الورع (پرہیزگاری)، الزہد (دنیا سے بے رغبتی)، الفقر (روحانی نیازمندی)، الصبر (ثباتِ قدم)، التوکل (اعتمادِ کامل) اور الرضا (خوشنودیِ الٰہی) جیسے عظیم مقامات آتے ہیں جو سالک کو باطنی ارتقا کی اعلیٰ ترین منازل تک پہنچاتے ہیں۔[7]
لغوی پس منظر اور اشتقاق
[ترمیم]عربی لغت اور اصطلاحی معاجم میں لفظ "مقام" کا بنیادی مادہ "ق و م" (قوم) ہے، جس کے بنیادی لغوی معانی کھڑے ہونے، قائم رہنے، ثبات اختیار کرنے، اقامت گزین ہونے اور کسی چیز کے مسکن یا مرتبے کے ہیں۔[3][8] اہل علم کے نزدیک مصدر اور اسمِ مکان کے لحاظ سے لفظ کی دو بنیادی اعرابی اور معنوی صورتیں ہیں:
- "المَقام" (فتحۂ میم کے ساتھ): یہ ثلاطی مجرد "قامَ يَقُومُ" سے اسمِ مکان یا مصدرِ میمی ہے، جس کے معنی قدم رکھنے کی جگہ، کھڑے ہونے کا مقام یا لوگوں کے اجتماع کی مجلس کے ہیں۔[8][9] جیسے قرآنِ کریم میں ہے: {فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ}۔[7]
- "المُقام" (ضمۂ میم کے ساتھ): یہ بابِ افعال "أَقامَ يُقِيمُ" سے اسمِ مکان یا مصدر ہے، جس کے معنی اقامت اختیار کرنے، مستقل ٹھہرنے یا وطن بٹھانے کے ہیں؛ جیسے ارشادِ باری ہے: {يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا}۔[8][9]
اہلِ لغت اور ماہرینِ فروق، بالخصوص ابو ہلال العسکری، نے مقام اور اس سے مطابقت رکھتی ہوئی دیگر لغوی اصطلاحات کے مابین دقیق فروق تحریر کیے ہیں:
- "المقام اور المکان کے درمیان فرق": "مکان" کا لفظ ہر اس مادی یا معنوی ظرف کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی جسم یا چیز کو گھیرے ہوئے ہو، جبکہ "مقام" اس مخصوص جگہ یا مرتبے کو کہتے ہیں جہاں قیام بالذات یا قیام بالطاعت پایا جائے؛ چنانچہ مقام کا لفظ عزت و مرتبے کی دلالت میں زیادہ خاص ہے۔[10]
- "المقام اور المنزلة کے درمیان فرق": "منزلت" انسان کے اس معاشرتی یا معنوی درجے کو کہتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں اسے حاصل ہو، جبکہ "مقام" سالک کے اس عملی و اخلاقی موقف کو ظاہر کرتا ہے جس پر وہ باطنی طور پر قائم ہو۔[10]
فلسفہ اور منطق کی روایات میں "مقام" کا استعارتی اطلاق ان عقلی و کلامی مواقع پر بھی ہوتا ہے جہاں گفتگو کسی خاص نقطے یا ترتیب پر جا کر ٹھہرتی ہے اور اس کا تعلق مخاطب کی فکری ضرورت سے ہوتا ہے، جیسا کہ بلاغت کا مشہور قاعدہ ہے: "لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَالٌ" (ہر موقع و مقام کے لیے ایک مناسب کلام ہوتا ہے)۔[11]
اصطلاحی تعریف اور حقیقت
[ترمیم]اصطلاحِ تصوف میں "مقام" کی جامع تعریف بیان کرتے ہوئے شارحین اور اکابرِ صوفیہ نے اس کی حقیقت کو بندے کی باطنی پیشرفت اور پائیدار اخلاقی بالیدگی سے تعبیر کیا ہے۔[1]
علامہ شریف جرجانی اپنی کتاب "التعريفات" میں مقام کی اصطلاحی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
| ” | المقام عند القوم: عبارة عن تحقق العبد بمنازلته من الأدب، وشرطه أن لا ينتقل من مقام إلى مقام حتى يستوفي أحكام ذلك المقام، فإن من لا توبة له لا صحة لإنابته، ومن لا ورع له لا صحة لزهده، ومن لا زهد له لا صحة لتوكله۔[5]
(ترجمہ: صوفیہ کے نزدیک مقام سے مراد بندے کا ادب و اخلاق کی کسی معین منزل میں اس طرح تحقق حاصل کرنا ہے کہ وہ اس کا عملی مجسمہ بن جائے۔ اور اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ سالک اس وقت تک ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل نہ ہو جب تک وہ پہلے مقام کے تمام احکام اور آداب کو مکمل طور پر ادا نہ کر لے؛ کیونکہ جس شخص کی توبہ درست نہ ہو اس کی انابت صحیح نہیں ہو سکتی اور جس کا ورع (پرہیزگاری) پائیدار نہ ہو اس کا زہد معتبر نہیں ہو سکتا اور جس کا زہد قائم نہ ہو اس کا توکل صحیح نہیں ہو سکتا۔) |
“ |
علامہ مناوی نے "التوقيف على مهمات التعاريف" میں اور جلال الدین سیوطی نے "معجم مقالید العلوم" میں مقام کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "مقام وہ ادب اور معنوی باطنی منزل ہے جس میں بندہ اترتا ہے اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے اور جو تلاش، مجاہدے اور تکلیف برداشت کرنے سے حاصل ہوتی ہے"۔[2][12]
علامہ تھانوی نے "كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم" میں مقام کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ "مقام سالک کا وہ وصفِ ثابت ہے جو اس کے وجود میں اقامت اختیار کر لے اور اس کے اندر راسخ ہو جائے"۔[1] وہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر کوئی باطنی صفت سالک پر عارضی طور پر طاری ہو اور پھر ختم ہو جائے تو اسے مقام نہیں کہا جائے گا، بلکہ جب وہ ریاضت کے نتیجے میں دائمی طور پر قائم ہو جائے تبھی اسے مقام کا نام دیا جاتا ہے۔[1]
قاضی عبد النبی احمد نگری نے "دستور العلماء" میں اس اصولی شرط پر زور دیا ہے کہ سلوک میں "عدمِ جمود" اور "ترتیب" کی رعایت لازمی ہے؛ سالک کا اپنے کسی مقام پر مغرور ہو کر ٹھہر جانا نقص کی علامت ہے، جبکہ شرعی آداب کے بغیر آگے بڑھنے کا دعویٰ کرنا گمراہی کا سبب بنتا ہے۔[4]
حال اور مقام کا فرق اور باہمی تعلق
[ترمیم]تصوف کے اندر "حال" اور "مقام" دو ایسی جڑواں اصطلاحات ہیں جن کے باہمی تعلق اور فرق کو سمجھے بغیر باطنی سلوک کی حقیقت کو سمجھنا ممکن نہیں۔[6] قدیم و جدید علمی ماخذ نے ان دونوں کے مابین درج ذیل بنیادی اور جوہری فروق قائم کیے ہیں:
| وجهِ تمیز | حال (جمع: احوال) | مقام (جمع: مقامات) |
|---|---|---|
| "اصل و ماخذ" | "مواہب (عطائے الٰہی)": محض فضلِ الٰہی، فیضِ غیب اور عینِ جود سے دل پر نازل ہوتا ہے۔[5] | مکاسب (انسانی کسب): ذاتی مجاہدے، شرعی ریاضت اور محنت و مشقت سے حاصل ہوتا ہے۔[1] |
| "استقرار و پائیداری" | "عارضی اور متحرک (سریع الزوال)": یہ ایک چمکنے والی بجلی کی مانند آتا ہے اور جلد زائل ہو جاتا ہے۔[2] | پائیدار اور راسخ (ثابت ملکہ): یہ سالک کے باطن کی مستقل کیفیت اور مستقل صفت بن جاتا ہے۔[11] |
| اختیار و کوشش | غیر اختیاری: سالک اسے اپنے ارادے یا مصنوعی بناوٹ سے پیدا نہیں کر سکتا۔[5] | اختیاری و تدبیری: سالک اپنے عزم، توبہ، نیت اور مسلسل عمل کے ذریعے اسے حاصل کرتا ہے۔[7] |
| تمثیل و تشبیہ | زمان/وقت کی مانند: یہ ایک طاری ہونے والے لمحے یا عارضی سایے کی طرح ہے۔[4] | مکان/منزل کی مانند: یہ اس مضبوط عمارت یا منزل کی طرح ہے جہاں سالک قیام کرتا ہے۔[4] |
صوفیہ کے نزدیک حال اور مقام کا باہمی تعلق انتہائی گہرا اور ارتقائی ہے۔[6] ابو البقاء الکفوی نے "الكليات" میں اس کی ارتقائی منطق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کوئی بھی نفسیاتی یا باطنی کیفیت جب اپنے ابتدائی صدور میں ہوتی ہے تو اسے حال کہا جاتا ہے اور جب سالک کی مسلسل دہرائی اور مشق کے نتیجے میں وہ کیفیت دل میں اتنی گہری ہو جائے کہ زائل نہ ہو، تو وہی حال ترقی کر کے 'مقام' بن جاتا ہے"۔[13]
اسی طرح احمد مختار عمر نے "معجم اللغة العربية المعاصرة" میں معاصر علمی تعبیر میں لکھا ہے کہ "مقامات وہ ثابت حالات ہیں جنھیں سالک اپنے مجاہدے اور دینی اخلاص کے ذریعے اپنی ذات کا پائیدار حصہ بناتا ہے"۔[7]
مقاماتِ سلوک کی تدریجی ترتیب
[ترمیم]صوفیہ کے نزدیک روحانی سفر کی مثال ایک سیڑھی يا زینہ کی ہے جس کے درجات کا ایک خاص منطقی اور اخلاقی تسلسل ہوتا ہے۔[6] اگرچہ مختلف صوفیانہ مکاتبِ فکر نے مقامات کی تعداد سات، دس، چالیس یا سو تک بیان کی ہے، تاہم تمام مشائخ مندرجہ ذیل سات بنیادی اور مرکزی مقامات کی تدریجی ترتیب پر متفق ہیں:[6][7]
1. التوبہ (سچی توبہ اور رجوع)
[ترمیم]توبہ سلوکِ الٰہی کی سب سے پہلی منزل اور تمام مقامات کی بنیادی عمارت ہے۔[6] لغوی اعتبار سے اس کا معنی "رجوع کرنا" (لوٹنا) ہے اور تصوف میں اس سے مراد غفلت اور گناہ کی زندگی کو چھوڑ کر مکمل طور پر بارگاہِ الٰہی کی طرف رجوع کرنا ہے۔[5] سچی توبہ کی بنیادی شرائط میں ماضی کے گناہوں پر ندامت، فوراً معصیت کو ترک کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم شامل ہے۔[5] صوفیہ کے نزدیک عام لوگوں کی توبہ گناہوں سے ہوتی ہے جبکہ خواص کی توبہ غفلت اور خدا کے سوا دیگر اشیاء کی طرف التفات کرنے سے ہوتی ہے۔[6]
2. الورع (پرہیزگاری اور تقویٰ)
[ترمیم]توبہ کے بعد سالک کا اگلا مقام ورع (پرہیزگاری) ہے۔[5] ورع کا لغوی معنی رک جانا اور بچنا ہے اور شرعی اصطلاح میں اس سے مراد نہ صرف محرمات اور ممنوعات سے بچنا ہے بلکہ شبہات اور ان تمام امور سے بھی احتراز کرنا ہے جن کے اندر گناہ کا معمولی سا احتمال پایا جائے۔[5] امام غزالی کے نزدیک ورع کے درجات میں سب سے اعلیٰ درجہ "ورع الصدیقین" ہے، جس میں انسان ہر اس کام اور چیز کو ترک کر دیتا ہے جو محض خدا کی رضا کے لیے نہ ہو۔[6]
3. الزہد (دنیا سے بے رغبتی)
[ترمیم]زہد سے مراد دل کو دنیا کی محبت، مال و متاع اور ظاہری شان و شوکت کی خواہش سے مکمل طور پر پاک کر لینا ہے۔[7] لغویین کے نزدیک کسی چیز کی طرف رغبت نہ رکھنا زہد کہلاتا ہے۔[3] صوفیہ کے نزدیک زہد کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مادی اشیاء کا مالک نہ ہو، بلکہ اصل زہد یہ ہے کہ دنیا انسان کے ہاتھ میں تو ہو لیکن اس کے دل کے اندر داخل نہ ہو۔[6] سالک جب زہد کے مقام پر قائم ہوتا ہے تو اس کے نزدیک دنیا کا ملنا اور نہ ملنا برابر ہو جاتا ہے۔[5]
4. الفقر (نیازمندی اور روحانی فقر)
[ترمیم]فقر تصوف کا ایک نہایت بلند مقام ہے جس سے مراد سالک کا اپنے تمام تر وجود، صلاحیتوں اور مال و متاع کے بارے میں یہ پختہ باطنی شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ بذاتِ خود مطلق محتاج ہے اور تمام حقیقی ملکیت و غنا صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد "الفقر فخري" کو صوفیہ اسی باطنی نیازمندی پر محمول کرتے ہیں۔[1] مقامِ فقر پر فائز صوفی اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا دعویٰ نہیں کرتا اور خدا کے سوا کسی کا ممنونِ احسان نہیں ہوتا۔[5]
5. الصبر (صبر اور ثباتِ قدم)
[ترمیم]صبر کا لغوی معنی نفس کو روکنا اور ضبط کرنا ہے۔[3] تصوف کی اصطلاح میں صبر سے مراد مشقتوں، بلاؤں اور ناگوار حالات کا شکوہ و شکایت کے بغیر تحمل کرنا اور طاعتِ الٰہی پر ثابت قدم رہنا ہے۔[5] صوفیہ نے صبر کی تین اقسام بیان کی ہیں: "الصبر على الطاعة" (عبادت پر قائم رہنا)، "الصبر عن المعصية" (گناہ سے نفس کو روکنا) اور "الصبر على المصيبة" (آفات و مصائب پر رضا بہ قضا رہنا)۔[6]
6. التوکل (خدا پر کامل اعتماد)
[ترمیم]توکل سے مراد تمام ظاہر و باطن امور میں اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا اور اس کی ربوبیت و کارسازی پر کامل اعتماد رکھنا ہے۔[5] لغوی اعتبار سے توکل کا مطلب باہم معتمد بننا یا عجز کا اظہار کر کے دوسرے پر بھروسا کرنا ہے۔[3] تصوف میں توکل اس بات کا نام ہے کہ انسان ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کے باوجود اپنے دل کا اعتماد اسباب پر رکھنے کی بجائے مسبب الاسباب (خدا) کی ذات پر رکھے۔[6]
7. الرضا (رضائے الٰہی پر تسلیم)
[ترمیم]رضا مقاماتِ سلوک کا آخری اور بلند ترین تاج تصور کیا جاتا ہے۔[6] اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے، قضا و قدر اور امر و نہی پر دل کی کامل خوشنودی اور سرِ تسلیمِ خم کرنا ہے۔[5] بعض صوفیہ کے نزدیک رضا مقامات کا نچوڑ اور احوال کا ابتدائی دروازہ ہے، جہاں پہنچ کر سالک کے دل سے اعتراض، انقباض اور بے چینی کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ {رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ} کا مظہر بن جاتا ہے۔[6]
اعلیٰ عرفانی مقامات اور روحانی منازل
[ترمیم]اخلاقی مقامات کو طے کرنے کے بعد سالک کے سامنے معرفتِ الٰہی اور باطنی شہود کے وہ اعلیٰ درجات آتے ہیں جنھیں تصوف کی تاریخ میں "اعلیٰ عرفانی مقامات" یا منازلِ نہائیت کہا جاتا ہے:[14]
المحاضرہ، المكاشفہ اور المشاہدہ
[ترمیم]یہ تینوں مقامات سالک کے قلبی مشاہدے کی گہرائی اور تجلیاتِ الٰہیہ کے ظہور کے درجات کو ظاہر کرتے ہیں:[14] 1. "المحاضرة": برہان اور سچی دلیل کے ذریعے سالک کے دل کا بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا، جہاں انوارِ الٰہیہ کی چمک کا ابتدائی احساس حاصل ہوتا ہے۔[15] 2. "المكاشفة": باطنی پردوں کا اس طرح ہٹ جانا اور حقائقِ غیبیہ کا ایسا انکشاف ہونا کہ سالک کے دل میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔[14] 3. "المشاهدة": بصیرت اور نورِ ایقان کے ذریعے ذات و صفاتِ الٰہیہ کا ایسا باطنی دیدار جس میں سالک کو اپنے وجود کا احساس تک ختم ہو جاتا ہے اور وہ عينِ یقین حاصل کر لیتا ہے۔[14]
الجمع اور الفرق
[ترمیم]- "الفرق (یا الفرق الأول): سالک کا مخلوقات، کثرتِ عالم اور ظاہری اسباب کو دیکھنا اور شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا۔[16]
- "الجمع": تجلیِ ذات کے غلبے کی وجہ سے مخلوق اور کثرت کا نظروں سے غائب ہو جانا اور صرف ذاتِ واحد کا شہود ہونا۔[16]
- "فرق الجمع (یا الفرق الثاني / الصحو الثاني)": یہ اکابر عارفین کا مقام ہے جہاں سالک عینِ وحدت کے اندر کثرت کو اور کثرت کے اندر وحدت کو بیک وقت دیکھتا ہے؛ یعنی وہ خدا کے مشاہدے میں غرق ہونے کے باوجود مخلوق کے حقوق اور شریعت کی پابندی کو کامل تر انداز میں ادا کرتا ہے۔[17]
الفناء اور البقاء
[ترمیم]فناء اور بقاء عرفانی سلوک کی آخری سرحدیں تصور کی جاتی ہیں:
صوفیانہ ادب اور کلاسیکی کتب میں مقامات کا تذکرہ
[ترمیم]اسلامی تاریخ میں تصوف پر لکھی جانے والی بنیادی اور مستند کتب میں مقاماتِ سلوک کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے:[6]
- "كتاب اللمع (ابو نصر سراج طوسی): اس کتاب میں تصوف کے سات بنیادی مقامات (توبہ، ورع، زہد، فقر، صبر، توکل، رضا) کو تصوف کی بنیادی عمارت قرار دیا گیا ہے۔[6]
- "قوت القلوب (ابو طالب مکی)": اس تصنیف میں قلبی اعمال، زہد اور مقاماتِ یقینیہ کو قرآن و سنت کے نصوص اور صحابہ کے آثار سے مدلل کر کے پیش کیا گیا ہے۔[6]
- "الرسالة القشيرية (ابو القاسم قشیری)": اس عالمی شہرت یافتہ کتاب میں تقریباً چالیس سے زائد مقامات و احوال کو الگ الگ باب میں تقسیم کر کے صوفیہ کے اقوال کی روشنی میں ان کی باقاعدہ اصولی تشریح کی گئی ہے۔[6]
- "كشف المحجوب (علی بن عثمان ہجویری)": فارسي زبان میں لکھی جانے والی تصوف کی اس پہلی مستند کتاب میں مقاماتِ سلوک کی علمی و عملی تفہیم پیش کی گئی ہے اور سالکین کے لیے ان کی عملی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔[6]
- "منازل السائرين (خواجہ عبد اللہ انصاری)": اس شاہکار متن میں مقاماتِ سلوک کو دس بنیادی حصوں (البدايات، الأبواب، المعاملات، الأخلاق، الأصول، الأودية، الأحوال، الولايات، النوايات، النهايات) میں تقسیم کر کے کل 100 مقامات کی باریک بینانہ درجہ بندی کی گئی ہے۔[6]
- "إحياء علوم الدين (امام ابو حامد غزالی)": امام غزالی نے اپنے اس عظیم الشان گلدستے کی چوتھی جلد (الرُّبع المُنْجِيات) کو مکمل طور پر مقاماتِ سلوک (توبہ، صبر، شکر، خوف، رجاء، زہد، توکل، محبت، شوق، رضا) کی فقہی، عقلی اور اخلاقی تحلیل کے لیے وقف کیا ہے۔[6]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 8 محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 2۔ ص 1623
- 1 2 3 محمد عبد الرؤوف المناوي (1990)۔ التوقيف على مهمات التعاريف۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 312
- 1 2 3 4 5 ابن منظور (1997)۔ لسان العرب۔ بیروت: دار إحياء التراث العربي۔ ج 12۔ ص 498
- 1 2 3 4 القاضي عبد النبي الأحمد نكري (2000)۔ دستور العلماء۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 3۔ ص 216
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 الشريف الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 245
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 1۔ ص 612
- 1 2 3 4 5 6 أحمد مختار عمر (2003)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 3۔ ص 1879
- 1 2 3 مرتضى الزبيدي (1994)۔ تاج العروس من جواهر القاموس۔ بیروت: دار الفكر۔ ج 33۔ ص 311
- 1 2 محمود عبد الرحمن عبد المنعم (1999)۔ معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية۔ قاہرہ: دار الفضيلة۔ ج 3۔ ص 331
- 1 2 أبو هلال العسكري (1991)۔ معجم الفروق اللغوية۔ قم: مؤسسة النشر الإسلامي۔ ج 1۔ ص 291
- 1 2 أبو البقاء الكفوي (1998)۔ الكليات۔ بیروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 1۔ ص 827
- ↑ جلال الدين السيوطي (2004)۔ معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم۔ قاہرہ: مكتبة الآداب۔ ج 1۔ ص 210
- ↑ أأبو البقاء الكفوي (1998)۔ الكليات۔ بیروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 1۔ ص 108
- 1 2 3 4 محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 2۔ ص 1785
- ↑ محمد عبد الرؤوف المناوي (1990)۔ التوقيف على مهمات التعاريف۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 300
- 1 2 محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 2۔ ص 1889
- ↑ محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 2۔ ص 1890
- ↑ الشريف الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 210
- ↑ محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 1۔ ص 343
بیرونی روابط
[ترمیم]- تصوف و عرفان اور مقاماتِ سلوک پر مستند مضامین کا ذخیرہ
- اسلامی اخلاقیات اور سلوکِ الٰہی کے بنیادی اصطلاحات کی گائیڈ [مردہ ربط]