حجاب (تصوف)
حجاب (عربی: الحِجَاب؛ جمع: حُجُب، أحجبة؛ فارسی: پردہ؛ انگریزی: Spiritual Veil) تصوف اور اسلامی اخلاقیات کی ایک اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ باطنی رکاوٹیں ہیں جو سالک کے قلب و روح اور اللہ کی معرفت و شہود کے درمیان حائل ہو جاتی ہیں۔[1] صوفیہ کے نزدیک سلوک کی ریاضتوں کا مقصد انھی پردوں کا اٹھنا ہے تاکہ بندے کو کشف اور معرفت حاصل ہو۔ حلیۃ الاولیاء میں ایک قول نقل ہوا ہے کہ تصوف حجاب سے نکل کر حجاب کے اٹھ جانے تک پہنچنا ہے۔[2] سری سقطی سے منقول دعا ہے: «اللهم مهما عذبتني بشيء فلا تعذبني بذل الحجاب» (اے اللہ! جس چیز سے چاہے عذاب دے، مگر حجاب کی ذلت کا عذاب نہ دے)۔[1] اس کا ذکر کتاب اللمع، الرسالہ قشیریہ، احیاء علوم الدین، عوارف المعارف، قوت القلوب، شرح الحکم العطائیہ، مکتوباتِ مجدد الف ثانی اور مثنوی معنوی جیسی کتب میں ملتا ہے۔
لغوی و اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]لغوی
[ترمیم]عربی لفظ "حجاب" کا مادہ "ح ج ب" ہے، جس کے معنی روکنے، چھپانے اور پردہ ڈالنے کے ہیں۔ "حجب الشيء عن العين" کا مطلب ہے کہ کسی چیز نے آنکھ کو دیکھنے سے روک دیا۔
اصطلاحی
[ترمیم]- ابو نصر سراج اللمع میں لکھتے ہیں: «والحجاب: حائل يحول بين الشيء المطلوب المقصود وبين طالبه وقاصده» (حجاب وہ رکاوٹ ہے جو مطلوب اور طالب کے درمیان حائل ہو)۔[1]
- ابن عجیبہ شرح الحکم میں لکھتے ہیں: «الحق ليس بمحجوب عنك، إنما المحجوب أنت عن النظر إليه» (حق تجھ سے پوشیدہ نہیں، تو ہی اسے دیکھنے سے محجوب ہے)۔ ان کے مطابق بندے اور اللہ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، صرف نفس کی کثافت اور دل کے دنیاوی تعلقات کا پردہ ہے۔[3]
- کلاباذی التعرف میں لکھتے ہیں کہ استتار یہ ہے کہ بشریت بندے اور غیب کے مشاہدے کے درمیان حائل ہو جائے۔[4]
حجاب کی اقسام
[ترمیم]حجبِ ظلمانی اور حجبِ نورانی
[ترمیم]سہروردی عوارف المعارف میں لکھتے ہیں کہ باطل پر چلنے والا نفس کے حجاب میں ہے اور حق پر چلنے والا قلب کے حجاب میں؛ نفس کا حجاب زمینی اور ظلمانی ہے جبکہ قلب کا آسمانی اور نورانی ہے۔[5]
- حجبِ ظلمانی: گناہوں پر اصرار، تکبر، غفلت اور دنیا کی محبت جیسی کثیف رکاوٹیں۔ غزالی احیاء العلوم میں ایسے شخص کو جو گناہ پر اصرار کرے یا تکبر میں مبتلا ہو، دل کے لیے بڑا حجاب قرار دیتے ہیں۔[6]
- حجبِ نورانی: عبادات، علوم، مکاشفات اور مقامات پر نظر رکھنے اور ان پر ٹھہر جانے کی لطیف رکاوٹ۔[5]
عبد القادر جیلانی کی شرح فتوح الغیب میں حدیث نقل ہوئی ہے: «إِنَّ لِلَّهِ سَبْعِينَ أَلْفَ حِجَابٍ مِّن ظُلْمَةٍ وَنُورٍ» (اللہ کے ستر ہزار نوری و ظلمانی پردے ہیں)۔[7] صوفیہ کے ہاں یہ تصور ملتا ہے کہ سالک ظلمانی کے بعد نورانی پردوں سے بھی گذرے۔
عوام اور خواص کے حجاب
[ترمیم]سلمی طبقات الصوفیہ میں نقل کرتے ہیں کہ خراسان کے مشائخ تین حجاب (خلق، دنیا، نفس) بتاتے تھے، اس پر جنید بغدادی نے کہا کہ یہ عام لوگوں کے دل کے حجاب ہیں، جبکہ خواص کا حجاب اعمال کو دیکھنا، ان کے ثواب کا خیال رکھنا اور نعمت کو دیکھنا ہے۔[8]
شقیق بلخی کے چار حجاب
[ترمیم]حلیۃ الاولیاء میں شقیق بلخی سے منقول ہے کہ چار چیزوں نے بندوں پر آخرت کا معاملہ چھپا رکھا ہے:[9]
- فقر کا خوف، جس نے جہنم کے خوف پر پردہ ڈال دیا۔
- "لوگ کیا کہیں گے" کا خیال، جس نے "رب کیا کہے گا" پر پردہ ڈال دیا۔
- دنیا کی محبت، جس نے آخرت کی محبت کو ڈھانپ دیا۔
- دنیاوی نعمتوں اور خواہشات کا غرور، جس نے جنت کی نعمتوں سے غافل کر دیا۔
حجابِ غیرت
[ترمیم]قشیری الرسالہ میں ابو علی دقاق کا قول نقل کرتے ہیں: «هذا حجاب الغيرة، ولا أحد أغير من الله تعالى» (یہ غیرت کا حجاب ہے اور اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں)۔[10]
بڑے حجابات
[ترمیم]خود بینی اور تدبیرِ نفس
[ترمیم]حلیۃ الاولیاء میں ذو النون مصری سے پوچھا گیا کہ مرید کو اللہ سے سب سے مخفی حجاب کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: «ملاحظة النفس وتدبيرها» (اپنے نفس کو دیکھنا اور اپنی تدبیر میں لگے رہنا)۔[11] ابن عجیبہ کی عبارت ہے: «فأنت حجاب القلب عن سر غيبه»، یعنی بندے کا اپنا وجود ہی اس کے اور غیب کے درمیان حجاب ہے۔[12]
دعویٰ
[ترمیم]سہل تستری سے منقول ہے: «أول الحجاب الدعوى... وليس بين العبد وبين الله عز وجل حجاب أغلظ من الدعوى، ولا طريق أقرب إليه من الافتقار» (حجاب کی ابتدا دعویٰ ہے؛ بندے اور اللہ کے درمیان دعویٰ سے بڑا حجاب نہیں اور افتقار سے قریب راستہ نہیں)۔[13]
فہم کے حجاب
[ترمیم]غزالی احیاء العلوم میں قرآن کے معانی سمجھنے کے چار حجاب بتاتے ہیں:[6]
- حروف کے مخارج کی ادائیگی ہی میں اتنا لگ جانا کہ معانی کی طرف توجہ نہ رہے۔
- کسی مذہب کی اندھی تقلید۔ اسی لیے صوفیہ کہتے ہیں «إن العلم حجاب»، یعنی وہ علم جو محض تقلید پر قائم ہو۔
- گناہ پر اصرار اور تکبر۔
- صرف ظاہری تفسیر پر جم جانا اور باطنی معانی کا انکار۔
مثنوی میں حجاب
[ترمیم]مولانا رومی مثنوی میں حجاب کے مختلف پہلو بیان کرتے ہیں:
- حجاب کے اٹھ جانے پر ہر جان کے مسیحا ہونے کا ذکر:[14]
گر حجاب از جانها برخاستی ... گفت هر جانی مسیحآساستی
- نامحرم اور محرم کی تمثیل کہ نامحرم کے آنے پر پردہ نشین چھپ جاتی ہیں اور محرم کے آنے پر نقاب اٹھا دیتی ہیں:[15]
چون که نامحرم درآید از درم ... پردهدر پنهان شوند اهلِ حرم
ور درآید محرمی دور از گزند ... برگشایند آن ستیران رویبند
- آنکھیں بند کر لینے سے آفتاب کا کام نہیں رکتا:[16]
ور به بندی چشم خود را ز احتجاب ... کار خود را کی گذارد آفتاب
- قربت کے باوجود دوری کی شکایت:[17]
با چنین نزدیکیام دور از تو دور ... در چنین تاریکی بفرست نور
رفعِ حجاب
[ترمیم]خرقِ حجب
[ترمیم]مجدد الف ثانی مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ بندے اور رب کے درمیان اصل حجاب بندے کا اپنا نفس ہے۔[18] وہ خرقِ حجب کی دو صورتیں بیان کرتے ہیں: خرقِ وجودی اور خرقِ شہودی، جن میں اسما و صفات اور شیونات کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔[19]
تجلی
[ترمیم]کلاباذی التعرف میں لکھتے ہیں: «التجلي رفع حجبة البشرية»، یعنی تجلی بشری حجاب کا اٹھ جانا ہے، نہ کہ حق کی ذات کا رنگ بدلنا۔[4]
حوالہ جات
[ترمیم]مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 ابو نصر سراج طوسی (1914)۔ اللمع في التصوف۔ لائیڈن: بریل۔ ص 351
- ↑ ابو نعیم الاصبہانی (1980)۔ حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء۔ دار الکتاب العربی۔ ج 1۔ ص 1
- 1 2 3 ابن عجیبہ۔ شرح الحکم العطائیہ (ایقاظ الہمم)۔ دار المعارف۔ ج 1۔ ص 73
- 1 2 ابو بکر کلاباذی (1993)۔ التعرف لمذهب أهل التصوف۔ دار الکتب العلمیہ۔ ص 141
- 1 2 شہاب الدین سہروردی۔ عوارف المعارف۔ دار التقوی۔ ج 1۔ ص 292
- 1 2 ابو حامد الغزالی (1938)۔ احیاء علوم الدین۔ مطبعۃ لجنۃ نشر الثقافۃ الاسلامیہ۔ ج 1۔ ص 514
- ↑ عبد القادر جیلانی۔ شرح فتوح الغیب۔ المکتبۃ العطاریہ۔ ص 432
- ↑ ابو عبد الرحمن سلمی۔ طبقات الصوفیہ۔ دار الکتب العلمیہ۔ ص 169
- ↑ ابو نعیم الاصبہانی (1980)۔ حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء۔ دار الکتاب العربی۔ ج 6۔ ص 306
- ↑ ابو القاسم القشیری (1972)۔ الرسالة القشيرية۔ دار المعارف۔ ص 344
- ↑ ابو نعیم الاصبہانی (1980)۔ حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء۔ دار الکتاب العربی۔ ج 8۔ ص 41
- ↑ ابن عجیبہ۔ شرح الحکم العطائیہ (ایقاظ الہمم)۔ دار المعارف۔ ج 2۔ ص 516
- ↑ عبد المجید الشرنوبی (1995)۔ سیر السالک في أسنى المسالك۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 2۔ ص 45
- ↑ جلال الدین رومی (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ۔ ترجمہ از قاضی سجاد حسین۔ المکتبۃ الشرقیہ۔ ج 1۔ ص 180
- ↑ جلال الدین رومی (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ۔ ترجمہ از قاضی سجاد حسین۔ المکتبۃ الشرقیہ۔ ج 1۔ ص 181
- ↑ جلال الدین رومی (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ۔ ترجمہ از قاضی سجاد حسین۔ المکتبۃ الشرقیہ۔ ج 6۔ ص 50
- ↑ جلال الدین رومی (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ۔ ترجمہ از قاضی سجاد حسین۔ المکتبۃ الشرقیہ۔ ج 2۔ ص 220
- ↑ احمد سرہندی (1906)۔ مکتوبات امام ربانی۔ مطبع مرتضوی۔ ج 1۔ ص 77
- ↑ احمد سرہندی (1906)۔ مکتوبات امام ربانی۔ مطبع مرتضوی۔ ج 1۔ ص 107
- ↑ ابو القاسم القشیری (1972)۔ الرسالة القشيرية۔ دار المعارف۔ ص 170
- ↑ جلال الدین رومی (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ۔ ترجمہ از قاضی سجاد حسین۔ المکتبۃ الشرقیہ۔ ج 2۔ ص 200
