دارا (تصوف)
دارا (عربی و فارسی: دارا؛ نیز دار، جمع: دِیَار و دُور) کی متعدد شرعی، باطنی، تمثیلی اور تاریخی وسعتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی بنیادی وسعت نسبتِ مکانی اور عرفانی نسبت کا ہے جو شام کے شہر دمشق کے قرب میں واقع تاریخی گاؤں «دارا» یا داریا کی طرف منسوب ہے، جہاں کبارِ اولیاء اور صوفیۂ شام کے عظیم الشان امام حضرت ابو سلیمان عبد الرحمن بن عطیہ الدارانی رحمہ اللہ، متوفی 215ھ، معروف بہ «ریحانۃ القلوب» و «بندار الجائعین»، کا مسکن و مرقد قائم ہوا اور انہی کی نسبت سے طریقت کے اس زاہدانہ مکتب کو نسبتِ دارانی حاصل ہوئی۔[1]
دوسرا باطنی و ادبی بعُد صوفیانہ کلام اور فارسی و اردو ادب، جیسے مثنویِ معنوی اور مكتوبات امام رباني، میں تاریخی و تمثیلی شاہِ ایران «دارا» یا داریوش کا سمبل اور استعارہ ہے جو ظاہری تاج و تخت، مادی سلطنت، دنیوی جاہ و جلال اور ناپائیدار حکومت، یعنی «ملکِ دارا و سکندر»، کی نمائندگی کرتا ہے اور جس کے مقابلے میں صوفیۂ کاملین فقرِ محمدی، ملکِ باطن اور سلطنتِ استغناء کی برتری و پائیداری کا اثبات فرماتے ہیں۔[2]
تیسرا عرفانی بعُد لفظ «دار» کی معنوی و وجودی تقسیمات پر مشتمل ہے جن کے ذریعے سالکِ طریقت کے منازلِ ارتقا اور باطنی عوالم کی وضاحت کی جاتی ہے، جیسے دارِ فناء یا دارِ غرور، دارِ ملام اور دارِ سلام یا دارِ قرار۔[3]
چوتھا تاریخی بعُد برصغیر پاک و ہند کی صوفیانہ تاریخ میں مغل شہزادے حضرت سلطان محمد دارا شکوہ قادری، مریدِ حضرت میاں میر و ملا شاہ بدخشی، کی شخصیت سے وابستہ ہے جنھوں نے سلسلہ قادریہ کے تحت صوفیانہ تراجم، سوانحِ اولیاء اور مقارناتی عرفان کی بنیادیں استوار کیں۔[4]
اکابرینِ تصوف نے اپنی تصنیفات میں ان تمام معنوی و تاریخی جہتوں پر گراں قدر مباحث پیش کیے ہیں۔[5]
لغوی، اصطلاحی اور معنوی مفہوم
[ترمیم]عربی، فارسی اور اردو لغات کی تصریحات کے مطابق لفظ «دارا» فارسی تاریخ اور ادبی روایت میں قدیم شاہانِ فارس، بالخصوص کیانی سلطنت کے نامور حکمران، کا اسمِ گرامی ہے، جو مجازاً ہر صاحبِ تاج و تخت، جابر حاکم یا صاحبِ شوکت بادشاہ کے لیے مستعمل ہوا۔[2]
نیز لغتِ عرب میں لفظ «دار»، جمع دیار و دور، اسمِ مکان ہے جس کے معنی گھر، مسکن، محل یا عالم و دنیا کے ہیں۔[3]
اشتقاق اور نسبتِ دارا
[ترمیم]علمِ طبقاتِ صوفیہ میں نسبتِ «دارانی» کی اصل لفظ «دارا» یا «داریا» کو قرار دیا گیا ہے، جو دمشق کی غوطہ میں واقع ایک مشہور و معروف تاریخی گاؤں کا نام ہے۔[6]
صوفیانہ تاریخ میں جب بھی مطلق طور پر مکتبِ دارا یا روشِ دارانی کا ذکر آتا ہے، تو اس سے مراد حضرت ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کی وہ زاہدانہ و عارفانہ روش ہوتی ہے جس کی بنیاد تقلیلِ غذا، کثرتِ بکا، خوفِ الہی اور دنیاوی علائق سے مکمل انقطاع پر قائم ہے۔[7]
تمثیلِ دارا
[ترمیم]صوفیانہ ادب اور تعلیماتِ عرفان میں «سلطنتِ دارا» دنیاوی بادشاہت اور مادی طاقت کے استعارے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔[4]
اکابرِ اولیاء نے یہ واضح فرمایا ہے کہ ظاہری بادشاہ جن میں دارا، سکندر اور جمشید شامل ہیں، مٹی کے ڈھیروں اور فانی سرحدوں پر حکومت کرتے تھے اور ان کا اقتدار موت کے ایک ہی جھٹکے سے ختم ہو جاتا ہے؛ جبکہ ولیِ کامل اور فقیرِ صادق کو باری تعالیٰ کی جانب سے ملکِ باطن اور سلطنتِ ابدی عطا کی جاتی ہے جو زوال سے یکسر پاک ہوتی ہے۔[2]
عوالمِ وجود
[ترمیم]تصوف میں انسانی وجود اور کائنات کے سفر کو مختلف دور اور دیار میں تقسیم کیا گیا ہے:
- دارِ فناء / دارِ غرور: عالمِ دنیا جس کی حقیقت ناپائیدار، دھوکے اور آزمائش کی ہے۔[3]
- دارِ ملام: سالکِ طریقت کا وہ تعلیمی و تربیتی مقام جہاں وہ اپنے نفس پر ملامت کرتا ہے اور ریاضات کے ذریعے باطنی عیوب کو دور کرتا ہے۔[8]
- دارِ سلام / دارِ قرار: عالمِ قدس اور بارگاہِ الہیہ کی قربت کا وہ لازوال مقام جہاں اولیائے کرام اور مؤمنینِ صادقین کو سلامتی اور دائمی حضور حاصل ہوتا ہے۔[9]
ابو سلیمان دارانی
[ترمیم]تصوف کے ابتدائی ادوار میں شامی مکتبِ زہد کے قائد حضرت ابو سلیمان عبد الرحمن بن عطیہ الدارانی رحمہ اللہ کی ذاتِ مبارکہ تصوفِ اسلامی کا ایک عظیم الشان باب ہے۔[1]
سوانحی احوال
[ترمیم]آپ کی ولادت اور سکونت دمشق کے قریبی گاؤں «دارا» یا «داریا» میں ہوئی، اسی مناسبت سے آپ کو «الدارانی» کہا جاتا ہے۔[7]
شیخ فريد الدين العطار «تذكرة الأولياء» میں اور امام ابو نعیم الاصبہانی «حلية الأولياء» میں تحریر فرماتے ہیں کہ آپ اپنے دور کے یگانہ، عارفِ کامل اور ریاضت و زہد میں بے مثال پیشوا تھے۔ آپ کی زاہدانہ خشیت اور معنوی لطافت کی بنا پر اکابرین نے آپ کو «ریحانۃ القلوب» اور «بندار الجائعین» کا لقب عطا فرمایا۔[1]
تعالیمِ دارانی
[ترمیم]حضرت ابو سلیمان دارانی نے تصوف کی اخلاقی و عملی بنیادوں پر شاندار ارشادات رقم فرمائے ہیں:
- جوع اور خوف: آپ کا مشہور فرمان شیخ تقی الدین حصنی شافعی «سیر سالک» میں نقل فرماتے ہیں کہ دنیا کی تمام غفلتوں کی کنجی پیٹ کا بھرنا ہے اور آخرت کے باطنی انوار کی کنجی بھوک ہے؛ اور دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی اصل جڑ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔[7]
- جامع ترین تعریفِ دنیا: شیخ ابو طالب مکی «قوت القلوب» میں بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو سلیمان دارانی سے دنیا کی حقیقت پوچھی گئی، تو انھوں نے صوفیانہ تاریخ کی جامع ترین تعریف پیش فرمائی کہ دنیا ہر وہ شے، شخص یا مشغلہ ہے جو تجھے اللہ تعالیٰ کی یاد اور اطاعت سے غافل کر دے۔[5]
- حقیقتِ زہد: آپ فرماتے ہیں کہ حقیقی زاہد صرف وہ ہے جو اپنے دل کو دنیاوی علائق سے فارغ کر کے اپنے مولیٰ کی عبادتی یکسوئی میں مشغول ہو جائے۔[5]
صحبتِ شیخ اور اخلاص
[ترمیم]شیخ فريد الدين عطار نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرید نے حضرت ابو سلیمان دارانی کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے خلوت کی تنہائی میں جو باطنی لذت حاصل ہوتی ہے، وہ مجمع اور لوگوں میں حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت ابو سلیمان دارانی نے اس کی باطنی اصلاح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تو ابھی باطنی طور پر کمزور سالک ہے کیونکہ تیری نظر اب بھی مخلوق پر ہے؛ سچے مخلص سالک کا باطنی حال خلوت اور جلوت دونوں میں ایک جیسا اور برابر ہونا چاہیے۔[1]
عوالمِ باطن اور منازلِ دار
[ترمیم]تصوف و سلوک کے نظری نظام میں سالکِ طریقت کے سفر کو مختلف عوالم اور دیار کے معنوی مراتب پر تقسیم کیا گیا ہے۔[3]
دارِ فناء بمقابلہ دارِ قرار
[ترمیم]ابن عجائبہ «شرح الحكم العطائيه» میں تحریر فرماتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے دنیا کو دارِ غرور اور دارِ فناء کا نام دیا ہے اور آخرت کو دارِ قرار اور دارِ خلود کا نشان بنایا ہے۔ عارفین کا کام یہ ہے کہ وہ طَیِّ دنیا اختیار کر کے اپنے باطن کو دارِ فناء سے منقطع کر کے دارِ قرار کے انوار سے واصل کر دیتے ہیں۔ ابن عجائبہ تحریر فرماتے ہیں کہ حقیقی باطنی طے یہ ہے کہ تو دنیا کی مسافت کو اپنے دل سے لپیٹ دے، یہاں تک کہ تو آخرت اور بارگاہِ الہی کو اپنے وجود سے بھی زیادہ قریب مشاہدہ کرنے لگے۔[3]
معرکۂ خریدِ دار
[ترمیم]ابن عجائبہ «شرح الحكم العطائيه» میں حضرت ذو النون مصری سے ایک معرکہ آرا واقعہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو دنیا میں ایک عظیم الشان مکان و دار خرید کر اس کا بیع نامہ تحریر کروا رہا تھا۔ حضرت ذو النون مصری نے آگے بڑھ کر اس سے ارشاد فرمایا کہ اے میرے بھائی! ایسی دار و مکان نہ خرید جو فناء ہو جائے اور اس دار کو نہ چھوڑ جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے! تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دارِ سلام اور مقربین کی مجاورت کا مکان کیوں نہیں خرید لیتا؟ جس دار کے چار باطنی حدود ہیں: پہلی حد خوف رکھنے والوں کی منزل ہے، دوسری عارفین کی منزل ہے، تیسری مشتاقین کی منزل ہے اور چوتھی محبین کے جنت کے باغیچے ہیں۔[10]
نیز اس معنوی بیع نامے کا طریقہ یہ بیان فرمایا کہ انسان گناہوں کی ذلت سے نکل کر اطاعتِ الہی کی عزت اور طمع کے تعب سے نکل کر زہد و ورع کے سکون میں داخل ہو جائے۔[10]
دارِ دنیا میں غریب و مسافر
[ترمیم]غوثِ اعظم حضرت شیخ عبد القادر الجیلانی کا قول شارحِ فتوح الغیب شیخ عبد الحق محدث دہلوی «شرح فتوح الغیب» میں نقل فرماتے ہیں کہ مؤمنِ صادق دنیا کی اس فانی دار میں ایک قیدی اور مسافر کی طرح رہتا ہے۔ حدیثِ نبوی ہے کہ دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔ پس مؤمن کا حقیقی سکون اور راحت اس دارِ فناء میں نہیں، بلکہ اپنے پروردگار عز وجل کی طرف انقطاع، موافقت اور اس کی بارگاہ میں استراحت پانے میں ہے۔[11]
تمثیلاتِ دارا و دار
[ترمیم]مولانا روم «مثنوی معنوی» میں سلطنتِ دارا، دارِ دنیا کی فانی حقیقت اور دارِ سلام کے باطنی انوار کو شاندار معنوی حکایات اور اشعار میں بیان فرماتے ہیں۔[2]
حکایتِ «بادشاہ زادہ و سلطنتِ حقیقی»
[ترمیم]مولانا روم «مثنوی معنوی» کے دفتر چہارم میں ایک شاہزادے کی تمثیلی حکایت بیان فرماتے ہیں جس پر غیبی عالم سے سچی معنوی بادشاہت کا کشف ہو گیا اور اس نے دنیاوی تاج و تخت اور سلطنتِ دارا کو بچوں کے کھیل سے تعبیر کر کے ترک کر دیا۔ مولانا روم صراحت فرماتے ہیں کہ سچا سالک اور درویش دارِ دنیا اور ملکِ دارا کی ظاہری چمک پر فخر نہیں کرتا، بلکہ وہ باری تعالیٰ سے باطنی ملکیت کا طالب ہوتا ہے۔[2]
«آمدہ از دارِ سلام بہ دارِ ملام»
[ترمیم]مولانا روم «مثنوی معنوی» کے دفتر پنجم میں مسافرِ سلوک کا معنوی مکالمہ تحریر فرماتے ہیں جو عالمِ ارواح اور دارِ سلام کی اصل سے اس دنیاوی دارِ ملام میں سفر کر کے آیا ہے۔ اس سالکِ درویش نے کہا کہ اے بادشاہ! میں اصل کے اعتبار سے سلامتی کے گھر، یعنی دارِ السلام، کا باشندہ ہوں، جو وہاں کے روحانی وطن سے اس آزمائش و ملامت کے گھر، یعنی دارِ الملام، میں وارد ہوا ہے۔[8]
تجافی از دارِ غرور
[ترمیم]مولانا روم حدیثِ نبوی کی شرح فرماتے ہیں کہ جب باطنی نور انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے، تو اس کی بنیادی علامت دارِ غرور سے بے رغبتی اور دارِ خلود کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ان کے نزدیک وہ سالک اس دھوکے کے گھر یعنی دنیا سے دوری اور تجافی اختیار کرتا ہے اور فتنوں کے اس گھر سے نکل کر باری تعالیٰ کی بارگاہ میں انابت و توبہ قائم کرتا ہے۔[2]
دارا شکوہ اور قادریہ
[ترمیم]برصغیر پاک و ہند کی اسلامی و صوفیانہ تاریخ میں شہزادہ دارا شکوہ، 1024ھ تا 1069ھ یا 1615ء تا 1659ء، ایک ممتاز صوفی مفکر، مؤرخِ سلاسل اور سلسلہ قادریہ کے جلیل القدر سالک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔[4]
ارادت و بیعت
[ترمیم]دارا شکوہ نے لاہور کے عظیم الشان قادری شیخ حضرت سائیں میاں میر لاہوری رحمہ اللہ اور ان کے خلیفۂ اعظم حضرت ملا شاہ بدخشی رحمہ اللہ کے دستِ مبارک پر طریقت کی بیعت کی۔ سلسلہ قادریہ کی برکات سے مستفیض ہو کر دارا شکوہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تصوف کے مطالعے، اولیاء کے سوانح کی تدوین اور باطنی معارف کی تحریر میں صرف کیا۔[4]
تصانیف اور عرفانی خدمات
[ترمیم]دارا شکوہ نے تصوف اور سوانحِ اولیاء پر کئی بنیادی شاہکار فارسی زبان میں تصنیف فرمائے:
- سفینة الأولیاء: تمام معروف سلاسلِ تصوف کے اکابرین اور آئمہ کے مستند حالات پر مبنی تذکرہ۔[4]
- سکینة الأولیاء: حضرت میاں میر لاہوری اور ملا شاہ بدخشی کے سوانح، ارشادات اور سلسلہ قادریہ کے باطنی اشغال کی تفصیلات۔[4]
- مجمع البحرین: وحدت الوجود کی روشنی میں باطنی و عرفانی حقائق اور دنیاوی افکار کے مابین مشترک معنوی نکات کی علمی تلاش۔[4]
اکابرینِ تصوف کے افکار
[ترمیم]حضرت مجدد الف ثانی
[ترمیم]حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی «مكتوبات امام رباني» میں نواب شیخ فرید کے نام مکتوب میں صراحت فرماتے ہیں کہ دنیا اپنے ظاہر میں جتنی بھی شیریں، طراوت والی اور دلکش دکھائی دے، وہ حقیقت میں قاتل زہر اور بے کار الجھن ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ دنیا کی ظاہری سلطنت اور دارِ غرور کا طالب حقیقت میں فتنوں کا شکار اور مجنون ہے؛ حقیقی سعادت معنوی خلاصی اور شریعتِ مصطفویہ کی پیروی میں مضمر ہے۔[12]
امام ابو حامد الغزالی اور السراج الطوسی
[ترمیم]امام ابو حامد غزالی «احیاء العلوم الدین» میں بیان فرماتے ہیں کہ انسان اس دنیاوی دار میں ایک مسافر کی طرح ہے جسے ہر لمحہ اپنے زادِ راہ یعنی تقویٰ کی فکر کرنی چاہیے۔[13]
امام ابو نصر سراج طوسی «اللمع في التصوف» میں صراحت فرماتے ہیں کہ صوفی وہ ہے جو دنیا کے تمام دار و اسباب سے آزاد ہو کر محض باری تعالیٰ کے ساتھ واصل ہو جائے۔[14]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 فريد الدين العطار (2009ء)۔ تذكرة الأولياء۔ دار الكتب العلمية۔ ص 295–296
- 1 2 3 4 5 6 مولانا جلال الدین رومی (1974ء)۔ مثنوی معنوی۔ المكتبة الإسلامية۔ ص جلد 4، صفحہ 151-155
- 1 2 3 4 5 احمد بن محمد بن عجيبة الحسني (1983ء)۔ شرح الحكم العطائية (إيقاظ الهمم)۔ دار المعارف۔ ص جلد 2، صفحہ 223
- 1 2 3 4 5 6 7 الشيخ احمد الفاروقي السرهندي (1899ء)۔ مكتوبات امام رباني۔ مطبع مرتضوي۔ ص جلد 1، حصہ 1، صفحہ 44-50
- 1 2 3 ابو طالب محمد بن علي المكي (1995ء)۔ قوت القلوب في معاملة المحبوب۔ دار التراث۔ ص جلد 2، صفحہ 727
- ↑ ابو عبد الرحمن السلمي / خواجه عبد الله انصاري (1962ء)۔ طبقات الصوفية۔ Historical Society of Afghanistan۔ ص 51–100
- 1 2 3 تقي الدين ابو بكر بن محمد الحصني الشافعي (1995ء)۔ سير السالك في اسنى المسالك۔ دار الفتح۔ ص جلد 2، صفحہ 356-357
- 1 2 مولانا جلال الدین رومی (1974ء)۔ مثنوی معنوی۔ المكتبة الإسلامية۔ ص جلد 5، صفحہ 1-150
- ↑ ابو طالب محمد بن علي المكي (1995ء)۔ قوت القلوب في معاملة المحبوب۔ دار التراث۔ ص جلد 2، صفحہ 1001
- 1 2 احمد بن محمد بن عجيبة الحسني (1983ء)۔ شرح الحكم العطائية (إيقاظ الهمم)۔ دار المعارف۔ ص جلد 2، صفحہ 444-445
- ↑ الشيخ عبد الحق محدث دہلوی (1912ء)۔ شرح فتوح الغيب۔ مطبع محمدي۔ ص 202
- ↑ الشيخ احمد الفاروقي السرهندي (1899ء)۔ مكتوبات امام رباني۔ مطبع مرتضوي۔ ص جلد 1، حصہ 1، صفحہ 50
- ↑ ابو حامد محمد بن محمد الغزالي (1982ء)۔ احياء العلوم الدین۔ دار المعرفة۔ ص جلد 1، صفحہ 486
- ↑ ابو نصر سراج الطوسي (1914ء)۔ اللمع في التصوف۔ مطبعة بريل۔ ص 25
