عزلہ(تصوف)
عزلہ یا عزلت (عربی: العُزْلَة؛ انگریزی: Spiritual Seclusion / Solitude) تصوف، اسلامی عرفان اور علمِ اخلاق کی ایک بنیادی باطنی اصطلاح ہے، جس سے مراد سالک، طالبِ صادق یا عارف کا اپنے باطن اور ظاہری وجود کو مخلوق کے شرور، فضول تعلقات، نفسانی خواہشات اور گناہوں کی آلودگیوں سے بچانے کے لیے اکیلاپن اختیار کرنا، اپنی روح کو غیر اللہ کے شواغل سے مجرد کرنا اور خلوت و انفرادیت کے ذریعے اللہ کے ذکر، تفکر اور عبودیت میں مشغول ہونا ہے۔[1]
صوفیائے کرام کے نزدیک عزلہ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور ارتقائے روحی کا وہ بنیادی قلعہ ہے جس کے بغیر سالک کے لیے اخلاقِ ذمیمہ کا ازالہ اور مقاماتِ یقین کی تحصیل ممکن نہیں۔[2]
لغوی اور اصطلاحی حقیقت
[ترمیم]لغوی اصل
[ترمیم]لغوی اعتبار سے «عزلہ» کا مادہ «ع ز ل» ہے، جس کے معانی الگ ہو جانا، کنارہ کشی اختیار کرنا، کسی شے کو دوسری شے سے جدا کرنا اور اکیلاپن اختیار کرنے کے ہیں۔ امام قشیری نے لکھا: «العزلة: التنحي والإنفراد عن غيره»، یعنی عزلہ غیر سے کنارہ کشی اور تنہائی ہے۔[1]
اصطلاحی تعریف
[ترمیم]امام قشیری کے نزدیک حقیقتِ عزلہ اخلاقِ مذمومہ کو چھوڑنے کا نام ہے؛ اصل مقصد اپنے باطنی اوصاف کو تبدیل کرنا ہے نہ کہ محض وطن اور جگہ سے دور بھاگنا۔[1]
ابو نصر سراج طوسی کے نزدیک تخلی ظاہری اور باطنی شواغل سے اعراض کرنے، خلوت کو پسند کرنے، عزلہ کو ترجیح دینے اور تنہائی پر ہمیشگی قائم رکھنے کا نام ہے۔[3]
ابن عجیبۃ کے نزدیک عزلہ انفرادِ قلب مع اللہ یعنی دل کا اللہ کے ساتھ اکیلا ہو جانا ہے اور یہ سالک کے لیے باطنی دوا اور فکر کا میدان قائم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔[4]
سہروردی کے نزدیک عزلہ دو قسم کا ہے: فریضہ اور فضیلت؛ فریضہ عزلہ یہ ہے کہ انسان شر اور اہل شر سے الگ رہے اور فضیلت عزلہ یہ ہے کہ وہ فضولیات اور اہل فضول سے کنارہ کش ہو جائے۔[5]
عزلہ اور خلوت
[ترمیم]امام قشیری کے نزدیک خلوت صفوت والوں کی صفت ہے اور عزلہ اہل وصلت کی علامت ہے۔[1]
- خلوت: جسمانی اور ظاہری طور پر کسی معین مقام میں اکیلے بیٹھنے کو کہا جاتا ہے، جس کا مقصد باطنی انس اور ذکر حاصل کرنا ہوتا ہے۔
- عزلہ: قلبی اور باطنی صفت ہے، جس میں سالک کا دل مخلوق کی محبت، خواہشاتِ نفسانی اور گناہوں کی رغبت سے بالکل الگ ہو جاتا ہے، خواہ وہ ظاہری طور پر مخلوق کے ہجوم میں ہی کیوں نہ ہو۔
سہروردی نے لکھا: «الخلوة عن الأغيار، والعزلة عن النفس وما تدعو إليه»، یعنی خلوت غیروں سے الگ ہونے کو کہتے ہیں اور عزلہ نفس اور اس کی خواہشات سے الگ ہونے کا نام ہے۔[5]
قرآن و حدیث میں عزلہ
[ترمیم]قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول نقل ہوا ہے:
وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا
ترجمہ: اور میں تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے عزلت اختیار کرتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں۔ (مریم: 48)[5]
اسی طرح سورۂ مریم میں ارشاد ہے: «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ»، یعنی جب ابراہیم ان لوگوں سے الگ ہو گئے تو ہم نے انھیں اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے۔ ابن عجیبۃ نے لکھا کہ عزلہ اور اعتزال کے بعد ہی اللہ کے مواہب اور الٰہی عطایا نازل ہوتے ہیں۔[4]
سورۂ کہف میں ارشاد ہے: «وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ»، یعنی جب تم ان سے الگ ہو گئے تو غار میں پناہ لو۔[6]
حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ صَمَتَ نَجَا»، یعنی جس نے خاموشی اور انفرادیت اختیار کی وہ نجات پا گیا۔[7]
حضرت عمر بن الخطاب کا منسوب قول ہے: «خذوا بحظكم من العزلة»، یعنی عزلہ اور تنہائی سے اپنا وافر حصہ حاصل کرو۔[2]
مراتبِ عزلہ
[ترمیم]ابن عجیبۃ نے عزلہ کو تین مراتب میں تقسیم کیا ہے:[4]
عزلۂ عامہ
[ترمیم]یہ سلوک کی شروعات کرنے والے طالبین کا عزلہ ہے، جس میں سالک جسمانی طور پر مخلوق کی مجالس، فضول محفلوں اور گناہوں کی جگہوں سے دور ہو کر خلوت اختیار کرتا ہے۔ اس کا مقصد گناہوں سے بچنا، حواس کی حفاظت کرنا اور عبادات پر جمعیتِ خاطر قائم کرنا ہے۔[1][4]
عزلۂ خاصہ
[ترمیم]یہ طریقت کے متوسطین اور اہلِ باطن کا عزلہ ہے، جس میں سالک اپنے دل کو تمام اخلاقِ ذمیمہ، کبر، حسد، ریا اور دنیاوی ارادوں سے فارغ و مجرد کرتا ہے۔ اس کا مقصد نفسِ امارہ کی اصلاح، تصفیۂ قلب اور باطنی اخلاص ہے۔[1][2]
عزلۂ خاص الخاص
[ترمیم]یہ عارفین باللہ، صدیقین اور واصلین کا اعلیٰ ترین عزلہ ہے، جسے نقشبندیہ کی اصطلاح میں «خلوت در انجمن» یا «کائن بائن» کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر عارف کا جسم ظاہری طور پر مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ تمام شرعی و انسانی فرائض ادا کرتا ہے، لیکن اس کا باطنی سرّ اور روح ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتی۔[1][4]
شرائط اور آداب
[ترمیم]نیتِ عزلہ
[ترمیم]امام قشیری کے نزدیک عزلہ اختیار کرنے والے کا یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے الگ ہوا ہے، نہ یہ کہ لوگوں کے شر سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے؛ کیونکہ پہلی نیت انسان میں اپنے نفس کی تحقیر اور تواضع پیدا کرتی ہے، جبکہ دوسری نیت اپنی برتری اور تکبر کا احساس دیتی ہے۔[1]
تحصیلِ علم
[ترمیم]قشیری کے مطابق عزلہ اختیار کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اتنا علمی سرمایہ حاصل کرے جس سے اس کا عقیدۂ توحید صحیح ہو جائے اور پھر علومِ شرعیہ سے اتنا حصہ حاصل کرے جس سے وہ اپنے فرائضِ شرعیہ درست طور پر ادا کر سکے۔[1]
اکلِ حلال
[ترمیم]سہل بن عبد اللہ تستری کا منسوب فرمان ہے: «لا تصح الخلوة إلا بأكل الحلال، ولا يصح أكل الحلال إلا بأداء حق الله»، یعنی خلوت حلال روزی کے بغیر درست نہیں ہو سکتی اور حلال روزی اللہ کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔[1]
عزلہ بمقابلہ خلطہ
[ترمیم]امام غزالی نے احیاء علوم الدین کی کتاب «العزلة» میں عزلہ اور خلطہ کے باہمی منافع اور مضرت کا تفصیلی موازنہ پیش کیا ہے۔[6]
عزلہ کے فوائد
[ترمیم]- تفرغ برائے عبادت و ذکر
- زبان کے آفات اور آنکھ کی بد نظری سے سلامتی
- فتنوں اور خصومات سے بچاؤ
- مخلوق کے طمع سے خلاصی
- دنیا کی رنگینیوں سے دل کی بے نیاز
- عظمتِ الٰہی میں تفکر کا موقع[4]
خلطہ کے فوائد
[ترمیم]غزالی کے مطابق اگر انسان کے اندر باطنی قوت، علم اور اخلاص ہو تو خلطہ میں بھی بیسیوں فوائد ہیں؛ جیسے علم کا پڑھنا اور پڑھانا، نفع رسانی، قضاءِ حوائج، نمازِ جمعہ و جماعت کی حاضری اور صبر برائے اذیٰ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص علم و تربیت سے خالی ہو اور خلوت میں بیٹھ جائے تو اس کی عزلہ فائدے کی بجائے جہل اور وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے۔[6]
اکابرِ صوفیہ کے اقوال
[ترمیم]- امام قشیری نے ذو النون مصری سے منقول کیا ہے: «لم أر شيئاً أبعث على الإخلاص من الخلوة»، یعنی میں نے اخلاص کو بیدار کرنے کے لیے خلوت سے بڑھ کر کوئی شے نہیں دیکھی۔[1]
- ابو طالب مکی نے لکھا کہ عزلہ تمام اولیاء اور ابدال کا طریقہ ہے اور جب تک سالک خلوت میں وہ لذت اور باطنی قوت محسوس نہ کرے جو اسے علانیہ مجالس میں حاصل نہیں ہوتی، وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں ہوتا۔[2]
- ابن عجیبۃ نے لکھا کہ عزلہ پرہیز کی مانند ہے اور فکرمندی دوا کی مانند؛ چنانچہ دوا بغیر پرہیز کے اثر نہیں کرتی، اسی طرح بغیر عزلہ کے فکری ترقی حاصل نہیں ہوتی۔[4]
- عبد القادر جیلانی نے لکھا: «واترك الكل على باب خلوتك وادخل وحدك ترى مونسك في خلوتك بعين سرك»، یعنی تمام مخلوق اور نفسانی خطرات کو خلوت کے دروازے پر چھوڑ دے اور تنہا اندر جا، تو اپنے حقیقی مونس کا مشاہدہ کر لے گا۔[7]
- احمد سرہندی نے مکتوبات میں لکھا کہ نقشبندیہ کی بنیاد «خلوت در انجمن» پر ہے، یعنی ظاہر مخلوق کے ساتھ ہو مگر باطن حق کی طرف متوجہ رہے۔[8]
مثنویِ معنوی میں عزلہ
[ترمیم]جلال الدین رومی نے مثنوی معنوی میں لکھا ہے کہ صوفی کے لیے عزلہ اور خلوت غیروں اور نااہلوں سے ہونی چاہیے نہ کہ شیخِ کامل اور سچے یار سے؛ کیونکہ جب ایک عقل دوسری عقل کے ساتھ ملتی ہے تو روشنی بڑھ جاتی ہے اور باطنی راستہ نمایاں ہو جاتا ہے۔[9]
مولانا روم کے نزدیک روح کو اصل باطنی آرام تنہائی اور غیروں کی صحبت سے دوری میں میسر آتا ہے۔[9]
ثمرات
[ترمیم]- سلامتیِ دین: انسان زبان، آنکھ اور کان کے گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔[4]
- جمعیتِ خاطر: عزلہ سے دل کے انتشار اور وسوسوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور باطن میں الٰہی فکر قائم ہوتی ہے۔[2]
- لذتِ مناجات: سالک کو خلوت میں اللہ کے ساتھ مناجات، راز و نیاز اور دائمی انس کی شیرینی نصیب ہوتی ہے۔[4]
- ولایت و تجلیات: عزلہ پر مداومت سے سالک کا باطنی شیشہ مصفا ہو کر انوارِ الٰہیہ اور مقامِ ولایت کا مظہر بن جاتا ہے۔[4]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 أبو القاسم عبد الكريم القشيري (1972)۔ الرسالة القشيرية (بزبان عربی)۔ دار المعارف۔ ص 196–198
- 1 2 3 4 5 أبو طالب المكي (2001)۔ قوت القلوب في معاملة المحبوب (بزبان عربی)۔ مكتبة دار التراث۔ ج 1۔ ص 279–280
- ↑ أبو نصر السراج الطوسي (1914)۔ اللمع في التصوف (بزبان عربی)۔ مطبعة بريل۔ ص 270
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 أحمد ابن عجيبة (1224ھ)۔ إيقاظ الهمم في شرح الحكم (بزبان عربی)۔ دار المعارف۔ ج 1۔ ص 57–63
- 1 2 3 عمر بن محمد السهروردي (2022)۔ عوارف المعارف (بزبان عربی)۔ دار التقوى۔ ج 2۔ ص 171–172
- 1 2 3 أبو حامد محمد الغزالي (1356ھ)۔ إحياء علوم الدين (بزبان عربی)۔ مطبعة لجنة نشر الثقافة الإسلامية۔ ج 4۔ ص 629
- 1 2 عبد القادر الجيلاني (1420ھ)۔ شرح فتوح الغيب (بزبان عربی)۔ شرح: عبد الحق الدهلوي۔ المكتبة العطارية۔ ص 360
- ↑ أحمد الفروقي السرهندي (1324ھ)۔ مكتوبات امام ربانی (بزبان فارسی)۔ مطبع مرتضوي۔ ج 1۔ ص 190
- 1 2 جلال الدين الرومي (1974)۔ مثنوی معنوی مع اردو ترجمہ (بزبان فارسی)۔ مترجم: قاضي سجاد حسين۔ المكتبة الشرقية۔ ص دفتر 2، ص 15؛ دفتر 5، ص 340؛ دفتر 6، ص 480
```
