مندرجات کا رخ کریں

ہاروت و ماروت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ہاروت اور ماروت کا خطاطی نام

ہاروت و ماروت قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت 102 میں مذکور دو ہستیاں ہیں جنھیں بابل میں لوگوں کی آزمائش کے لیے بھیجا گیا۔ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ دونوں فرشتے تھے جو انسانی صورت میں بابل میں رہتے اور سحر کی حقیقت سے واقف تھے۔[1] جو شخص ان سے سحر سیکھنے آتا، اسے وہ پہلے متنبہ کرتے کہ ہم آزمائش ہیں، تم کفر نہ کرو۔[2]

قرآنی ذکر

[ترمیم]

سورہ البقرہ کی آیت 102 میں حضرت سلیمان کے عہد میں شیاطین کے سحر پھیلانے کا ذکر ہے اور اسی سیاق میں ہاروت و ماروت کا نام آیا ہے۔ آیت کا متعلقہ حصہ یہ ہے:

” وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ “

شانِ نزول

[ترمیم]

مفسرین کے مطابق بعض یہودیوں نے تورات کو پس پشت ڈال کر ان علوم کی پیروی کی جو شیاطین سلیمان علیہ السلام کے عہد کی طرف منسوب کر کے پھیلاتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت سحر کا نتیجہ تھی۔ قرآن نے اس الزام کی تردید کی کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا۔[3]

تفسیری اقوال

[ترمیم]

فرشتے ہونے کا موقف

[ترمیم]

جمہور کے نزدیک ہاروت و ماروت اللہ کے بھیجے ہوئے دو فرشتے تھے۔ بابل میں سحر کا غلبہ تھا اور لوگ جادوگروں کے کرتبوں کو معجزات کے ساتھ خلط ملط کرتے تھے، اس لیے ان کے ذریعے سحر کی حقیقت واضح کر کے معجزے اور سحر کا فرق دکھایا گیا۔[4] تفسیر جلالین کے مطابق اللہ نے ان کے ذریعے بندوں کی آزمائش کی، جیسے خوبصورت انسانی صورت میں فرشتوں کے ذریعے قوم لوط کو آزمایا گیا تھا۔[1]

انسان ہونے کا موقف

[ترمیم]

بعض مفسرین کے نزدیک یہ دونوں انسان تھے۔ صاحب تفسیر حقانی کے مطابق وہ بابل کے دو اشخاص تھے جنھیں ان کے عجیب افعال اور نیک چلن کی وجہ سے لوگ فرشتہ کہنے لگے تھے۔ وہ اس فن سے واقف تو تھے مگر اسے برا سمجھتے اور سیکھنے والے سے کہتے تھے کہ یہ علم ہمیں تمھاری آزمائش کے لیے دیا گیا ہے، اسے نہ سیکھو ورنہ ایمان جاتا رہے گا۔[5]

قراءات و اعراب

[ترمیم]

جمہور قراء نے لفظ المَلَكَيْنِ (لام کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا ہے، یعنی دو فرشتے۔ عبداللہ بن عباس اور حسن بصری سے المَلِكَيْنِ (لام کے کسرہ کے ساتھ) بھی منقول ہے، یعنی دو بادشاہ۔[6][7] نحویوں کے نزدیک ہاروت و ماروت عجمی نام ہونے کی وجہ سے ممنوع من الصرف ہیں۔ آیت میں وَمَا أُنْزِلَ کی ما کو بعض نے موصولہ اور بعض نے نافیہ قرار دیا ہے۔[7]

اسرائیلی روایات

[ترمیم]

بعض تفسیری کتب میں یہ قصہ مذکور ہے کہ فرشتوں نے انسانوں کے گناہوں پر تعجب کیا تو ہاروت و ماروت کو زمین پر اتارا گیا، وہاں ایک حسین عورت (زہرہ) کے سبب وہ گناہوں میں مبتلا ہوئے، وہ عورت سیارہ زہرہ بن گئی اور ان دونوں کو بابل کے ایک کنویں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ محققین نے اس قصے کو اسرائیلیات میں شمار کیا ہے۔ ان کے اعتراضات یہ ہیں:

  • یہ فرشتوں کی عصمت کے خلاف ہے، جبکہ قرآن (التحریم: 6) میں فرشتوں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔
  • ابن کثیر کے مطابق اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی صحیح مرفوع روایت ثابت نہیں اور اکثر منقولات کعب الاحبار اور اہل کتاب سے ماخوذ ہیں۔[8][9]

آیت سے متعلق احکام

[ترمیم]
  • آیت میں سحر سیکھنے اور سکھانے کو کفر کا سبب بتایا گیا ہے۔
  • سحر کے اثرات میں میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا خاص طور پر مذکور ہے۔
  • قرآن کے مطابق سحر بھی اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
  • سحر سیکھنے والوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔[2][10]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 جلال الدین محلی، جلال الدین سیوطی۔ تفسیر جلالین۔ ص سورہ البقرہ، آیت 102
  2. 1 2 ابو بکر ابن العربی (2003)۔ احکام القرآن۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 42
  3. ↑ ابن حجر عسقلانی (1997)۔ العجاب فی بیان الاسباب۔ دار ابن الجوزی۔ ج 1۔ ص 306
  4. ↑ ابو بکر الجصاص (1994)۔ احکام القرآن۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 45
  5. ↑ عبد الحق حقانی۔ تفسیر حقانی۔ ص سورہ البقرہ، آیت 102
  6. ↑ ابن الفرس (2006)۔ احکام القرآن۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 80
  7. 1 2 ابو جعفر النحاس (1988)۔ اعراب القرآن۔ عالم الکتب۔ ج 1۔ ص 72
  8. ↑ محمد محمد ابو شہبہ (2003)۔ الاسرائیلیات والموضوعات فی کتب التفسیر۔ مکتبہ السنہ۔ ص 159
  9. ↑ ابراہیم محمد رمضان (1992)۔ الدخیل فی تفسیر القرآن الکریم۔ دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 173
  10. ↑ محمد علی السایس (1953)۔ تفسیر آیات الاحکام۔ مکتبہ صبیح۔ ج 1۔ ص 23