اصحاب الرس
اصحاب الرس سے مراد قرآن مجید میں مذکور وہ قوم ہے جسے قوم ثمود کے باقی ماندہ لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جس نے اپنے نبی کو جھٹلا کر انھیں ایک قدیم کنویں میں ڈال کر ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں یہ قوم الٰہی عذاب کا شکار ہو کر مٹ گئی۔[1] قرآن کریم میں اس قوم کا ذکر دو مقامات پر ہوا ہے۔[2]
لغوی اور اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]عربی زبان میں لفظ "الرس" کے متعدد لغوی معانی ہیں، جن میں زمین کھودنا، کسی چیز کو چھپانا، مردے کو دفن کرنا اور کچا یا پختہ کنواں شامل ہیں۔[3] بعض روایات میں "رس" سے مراد وہ کچا کنواں ہے جسے اینٹ پتھر سے پختہ نہ کیا گیا ہو۔[3] اصطلاحی و تفسیری اعتبار سے "اصحاب الرس" سے مراد قوم ثمود کا وہ بقیہ حصہ ہے جنھوں نے اپنے نبی کی تکذیب کر کے انھیں کنویں میں ڈال دیا۔[3]
نسب اور تاریخی پس منظر
[ترمیم]ضحاک اور دیگر مفسرین سے منقول روایت کے مطابق، جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود پر عذاب نازل ہوا تو ان میں سے تقریباً چار ہزار افراد، جو ان پر ایمان لا چکے تھے، عذاب سے محفوظ رہے۔[4] یہ لوگ اپنی سابقہ بستی سے منتقل ہو کر حضرموت میں مقیم ہو گئے، حضرت صالح علیہ السلام بھی ان کے ساتھ تھے۔[4] ایک کنویں کے مقام پر قیام کے دوران حضرت صالح علیہ السلام کی وفات ہوئی، جس کی نسبت سے اس مقام کا نام "حضرموت" (یعنی موت حاضر ہو گئی) پڑا۔[5] بعد ازاں انہی افراد کی نسل میں بت پرستی رواج پا گئی۔[4]
جغرافیائی محل وقوع
[ترمیم]اصحاب الرس کے جغرافیائی محل وقوع کے بارے میں تاریخی مآخذ میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔[4] ایک قول کے مطابق یہ قوم یمن میں آباد تھی، جہاں ایک متروک کنواں پہاڑ کے دامن میں اور ایک مضبوط قلعہ پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔[4] ضحاک نے ابو روق کے طریق سے روایت کیا ہے کہ یہ کنواں حضرموت کے شہر "حاصوراء" میں واقع تھا۔[4] بعض دیگر روایات کے مطابق یہ قوم عدن کے قریب ایک زرخیز علاقے میں آباد تھی جہاں پانی کا ایک وسیع کنواں موجود تھا۔[1]
نبی اور واقعہ تکذیب
[ترمیم]تفسیری و تاریخی روایات کے مطابق اصحاب الرس کی طرف بھیجے گئے نبی کا نام "حنظلہ بن صفوان العبسی" بیان کیا جاتا ہے۔[1] بعض روایات میں انھیں محنت کش یا لکڑہارا بتایا گیا ہے، جنھیں ان کی قوم نے بازار میں قتل کر دیا۔[4] ایک عوامی روایت کے مطابق حنظلہ بن صفوان کا مدفن صنعاء کے اسی تاریخی کنویں میں بتایا جاتا ہے جو صنعاء کی مسجدِ کبیر کے قریب واقع ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر تعمیر کیا گیا بتایا جاتا ہے۔[6]
بت پرستی کا آغاز
[ترمیم]منقول ہے کہ اصحاب الرس پر ایک عادل بادشاہ حکمران تھا جس کے انتقال کے بعد قوم نے اس کی لاش کو محفوظ (ممی) کر لیا۔[1] روایت کے مطابق شیطان نے اس محفوظ لاش کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھیں اس کی پرستش پر آمادہ کیا۔[1] جب حنظلہ بن صفوان نے اس فریب کو بے نقاب کر کے توحید کی دعوت دی تو قوم نے ان کی دعوت رد کر کے انھیں کنویں میں پھینک کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد وہ الٰہی عذاب کا شکار ہوئی۔[1]
عنقاء سے متعلق روایت
[ترمیم]بعد کی تفسیری روایات میں اس قصے کو مزید وسعت دی گئی اور ایک خیالی پرندے "عنقاء" کی ہلاکت کا واقعہ بھی حنظلہ سے منسوب کیا گیا۔[1] محققین کے مطابق یہ روایت اصلاً خالد بن سنان العبسی سے متعلق تھی جو بعد میں اصحاب الرس کے قصے سے جوڑ دی گئی۔[1]
علمی و تاریخی حیثیت
[ترمیم]اصحاب الرس اور حنظلہ بن صفوان سے متعلق روایات کی سندی حیثیت اسلامی مآخذ میں کمزور مانی جاتی ہے۔[7] حافظ ابن کثیر نے "قصص الانبیاء" اور "البدایہ والنہایہ" میں علامہ سہیلی کے حوالے سے اس کا ذکر کیا، تاہم کوئی مستند سند بیان نہیں کی گئی۔[7] یہ روایات تیسری صدی ہجری میں مفسرین کی جانب سے سورہ الفرقان کی آیات کی تفہیم کی کوشش کے دوران مرتب ہوئیں۔[1] ابن قتیبہ نے حنظلہ بن صفوان کو "فترت" کے انبیا کی فہرست میں شامل نہیں کیا، جبکہ مسعودی نے "مروج الذہب" میں ان کا ذکر انتہائی اختصار سے کیا۔[1]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 رينيه باسيه (1998)۔ موجز دائرة المعارف الإسلامية۔ شارقہ: دار الشارقة۔ ج 14۔ ص 4376
- ↑ مفتی محمد شفیع۔ معارف القرآن۔ ص 92
- 1 2 3 ابن عاشور (1977)۔ مجلة الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة۔ مدینہ منورہ: الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة۔ ج 9۔ ص 350
- 1 2 3 4 5 6 7 سلیمان بن سحمان (1926)۔ الدرر السنية في الأجوبة النجدية۔ قاہرہ: مطبعة المنار۔ ج 10۔ ص 445
- ↑ مفتی محمد شفیع۔ معارف القرآن۔ ص 92
- ↑ محمد الحسن الددو الشنقيطي (2011)۔ دروس للشيخ محمد الحسن الددو الشنقيطي۔ دوحہ: موقع الشبكة الإسلامية۔ ج 47۔ ص 11
- 1 2 کمیٹی علماء (1993)۔ مجلة البحوث الإسلامية۔ ریاض: الأمانة العامة لهيئة كبار العلماء۔ ج 56۔ ص 87