اصحاب الاخدود
اصحاب الاخدود سے مراد وہ موحد مومنین ہیں جنھیں یمن کے علاقے نجران میں ایک ظالم یہودی بادشاہ ذو نواس نے توحید ترک نہ کرنے کی پاداش میں خندقیں کھدوا کر اور ان میں آگ دہکا کر زندہ جلا دیا تھا۔[1] اس واقعے کا تفصیلی تذکرہ قرآن مجید کے آخری پارے کی سورہ بروج میں آیا ہے، جہاں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ
(ہلاک کیے گئے خندقوں والے، بھڑکائی ہوئی آگ والے) القرآن (سورہ بروج).
لغوی و اصطلاحی معنی
[ترمیم]عربی زبان میں "اخدود" زمین میں کھودی جانے والی طویل، گہری اور خندق نما کھائی کو کہا جاتا ہے، جس کی جمع "اخادید" ہے۔[2][3] اصطلاحی طور پر اس سے مراد یا تو وہ جابر بادشاہ اور اس کے کارندے ہیں جنھوں نے مؤمنین کو سزا دینے کے لیے یہ خندقیں کھود کر ان میں آگ دہکائی یا پھر وہ سچے مؤمنین مراد لیے جاتے ہیں جنھیں اس آگ میں پھینک کر شہید کیا گیا۔[4] رسول اللہ ﷺ جب بھی اصحاب الاخدود کا تذکرہ فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے اس سخت آزمائش اور عذابِ شدید سے پناہ مانگا کرتے تھے۔[5]
پس منظر: نجران میں توحید کا آغاز
[ترمیم]تاریخی روایات کے مطابق نجران کے لوگ پہلے بت پرست تھے اور ایک بلند کھجور کے درخت کی پوجا کیا کرتے تھے۔[6] شام کے علاقے سے ایک زاہد اور خدا پرست عیسائی مبلغ، جسے "قیمون" یا "فیمیون" کہا جاتا ہے، نجران تشریف لائے۔[6] نجران کے باشندوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے معبود (کھجور کے درخت) پر غالب آ جائیں تو وہ ان کا دین قبول کر لیں گے۔ قیمون کی دعا سے وہ درخت جڑ سے اکھڑ کر گر پڑا، جس کے بعد اہلِ نجران نے بت پرستی سے توبہ کر کے عیسیٰ علیہ السلام کے توحیدی دین کو قبول کر لیا۔[6]
عبد اللہ بن تامر، جادوگر اور راہب کا قصہ
[ترمیم]یمن کے دربار میں ایک بوڑھا کاہن یا جادوگر تھا، جس کا نام بعض روایات میں "تسطیح" بتایا گیا ہے۔[7] بڑھاپے کے سبب اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے ایک ذہین لڑکا دیا جائے تاکہ وہ اسے فنِ سحر سکھا کر یہ علم مٹنے سے بچا سکے، جس پر بادشاہ نے ذہین ترین لڑکے عبد اللہ بن تامر کو اس کے سپرد کر دیا۔[6][7]
جادوگر کے مکان کے راستے میں ایک سچے موحد "راہب" کا صومعہ (عبادت خانہ) واقع تھا، جو خفیہ طور پر توحید کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔[7] عبد اللہ روزانہ آتے جاتے راہب کے پاس بیٹھتے اور اس کی توحید و رسالت پر مبنی باتیں سن کر متاثر ہوئے اور سچے دل سے ایمان لے آئے۔[7] راستے میں دیر ہونے پر جادوگر انھیں مارتا اور واپسی پر دیر ہونے پر گھر والے بھی سزا دیتے، تو راہب نے مشورہ دیا کہ جادوگر کے سامنے گھر والوں کا اور گھر والوں کے سامنے جادوگر کا بہانہ کر دیا کریں۔[8]
معجزات کا ظہور
[ترمیم]ایک روز راستے میں ایک عظیم الجثہ خوفناک درندے نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ عبد اللہ نے دل میں سوچا کہ آج جانچیں گے کہ راہب کا دین سچا ہے یا جادوگر کا فن، پھر پتھر اٹھا کر دعا کی: "اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ جادوگر کے معاملے سے تجھے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کو ہلاک کر دے۔" پتھر مارتے ہی درندہ ہلاک ہو گیا اور لوگوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی۔[8][9] راہب نے یہ سن کر کہا: "بیٹے! اب تو مجھ سے افضل ہو گیا ہے، عنقریب تو آزمائش میں ڈالا جائے گا، اگر ایسا ہو تو میرا نام مت بتانا۔"[8]
اس واقعے کے بعد عبد اللہ کو معجزاتی طور پر مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینے کی صلاحیت حاصل ہو گئی۔[8] بادشاہ کا ایک نابینا درباری، جو بہت سے تحفے لے کر ان کے پاس آیا، عبد اللہ کی دعا سے اللہ پر ایمان لانے کی شرط پر تندرست ہو گیا۔[8]
تشدد اور شہادتیں
[ترمیم]جب بادشاہ نے درباری سے پوچھا کہ اس کی بینائی کس نے لوٹائی، تو اس نے جواب دیا: "میرے رب نے۔" بادشاہ نے برہم ہو کر پوچھا کہ کیا میرے علاوہ بھی تمھارا کوئی رب ہے؟ درباری نے کہا: "ہاں، میرا اور تمھارا رب اللہ ہے۔" بادشاہ نے اسے سخت عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے عبد اللہ کا پتا بتا دیا اور عبد اللہ نے عذاب کے دوران راہب کا پتا اگل دیا۔[8][7] راہب کو بلا کر اپنے دین سے پھرنے کا کہا گیا، اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر پر رکھ کر جسم کے دو ٹکڑے کروا دیے اور اسی طرح نابینا درباری کو بھی چروا دیا۔[8]
پہاڑ اور سمندر سے نجات
[ترمیم]بادشاہ نے عبد اللہ کو پہاڑ کی چوٹی سے گرانے کے لیے بھیجا، مگر اس کی دعا سے پہاڑ پر زلزلہ آیا جس نے بادشاہ کے تمام کارندوں کو ہلاک کر دیا اور عبد اللہ صحیح سلامت واپس آ گئے۔[8] بادشاہ نے دوبارہ اسے کشتی میں سمندر کے بیچ ڈبونے کی کوشش کی، مگر عبد اللہ کی دعا سے کشتی الٹ گئی اور تمام سپاہی ڈوب گئے جبکہ وہ خود بچ کر لوٹ آئے۔[8]
شہادت کی تدبیر
[ترمیم]آخرکار عبد اللہ نے خود بادشاہ کو بتایا کہ وہ اسے صرف اسی صورت قتل کر سکتا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے، اسے سولی یا درخت کے تنے پر لٹکائے، اس کے اپنے ترکش سے ایک تیر لے کر کمان میں رکھے اور یہ کہہ کر تیر چلائے: "بسم اللہ رب الغلام" (اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے)۔[8] بادشاہ نے ایسا ہی کیا؛ تیر عبد اللہ کی کنپٹی میں لگا، انھوں نے اپنا ہاتھ اسی جگہ رکھا اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میدان میں موجود سب لوگ بیک زبان پکار اٹھے: "ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔"[8]
خندقوں کا عذاب
[ترمیم]تمام رعایا کو ایک ساتھ ایمان لاتے دیکھ کر ذو نواس غضب ناک ہو گیا اور اس نے شہر کی گلیوں کے دہانوں پر گہری اور لمبی خندقیں کھدوانے کا حکم دیا، جن کی لمبائی چالیس ذراع اور چوڑائی بارہ ذراع بیان کی جاتی ہے۔[8][10] ان خندقوں میں تیل، لکڑیاں اور ایندھن ڈال کر آگ دہکائی گئی اور حکم دیا گیا کہ جو شخص اپنے دین سے نہ پھرے اسے اس آگ میں ڈال دیا جائے۔[8][10] اس ہولناک واقعے میں بارہ ہزار سے بیس ہزار (بعض روایات میں ستر ہزار) موحد مومنین کو زندہ جلا دیا گیا۔[10][11] بادشاہ اور اس کے درباری خندقوں کے کناروں پر بیٹھ کر مومنین کے جلنے پر تماشا دیکھتے رہے۔[9]
اس واقعے کا سب سے رقت آمیز پہلو ایک ماں کا تھا، جو اپنے شیرخوار بچے کو گود میں لیے کھڑی تھی۔ آگ کی تپش دیکھ کر وہ ممتا کے باعث ہچکچائی، تو اس معصوم بچے کو اللہ نے گویائی عطا کی اور وہ پکار اٹھا: "اے میری ماں! صبر کر، بے شک تو حق پر ہے۔" اس کے بعد ماں مطمئن ہو کر خود کو آگ کے حوالے کر گئی۔[8][9]
روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کی روحیں آگ چھونے سے قبل ہی قبض فرما لیں تاکہ وہ جلنے کی تکلیف سے محفوظ رہیں اور خندقوں کی آگ یکدم باہر کی طرف بھڑک اٹھی جس نے تمام تماشائی ظالموں اور کارندوں کو جلا کر بھسم کر دیا۔[8][12] ذو نواس اس عذاب سے بچنے کے لیے اپنے گھوڑے سمیت سمندر میں کود گیا اور ڈوب کر ہلاک ہوا۔[8]
حبشہ کا حملہ اور یمن پر اس کا اقتدار
[ترمیم]نجران کے اس قتلِ عام سے بچ نکلنے والے ایک شخص "دوس ذو ثعلبان" نے شام کے رومی قیصر سے فریاد کی، جس نے حبشہ کے نصرانی بادشاہ نجاشی کو مدد کے لیے خط لکھا۔[13] نجاشی نے ایک بڑا لشکر یمن بھیجا جس نے حمیری بادشاہ ذو نواس کو شکست فاش دی اور اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا، جس کے بعد یمن پر حبشہ کی حکومت قائم ہو گئی جو اسلام کی آمد تک برقرار رہی۔[13]
لاشِ مبارک کی دریافت
[ترمیم]تاریخی روایات کے مطابق حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں نجران کے علاقے میں نہر کھودنے کے دوران عبد اللہ بن تامر کی لاش بالکل تروتازہ حالت میں برآمد ہوئی۔ ان کا ہاتھ اسی طرح کنپٹی کے زخم پر رکھا ہوا تھا؛ جب لوگوں نے اسے ہٹایا تو خون بہنے لگا اور ہاتھ چھوڑنے پر وہ دوبارہ اپنی جگہ پر واپس چلا گیا۔ ان کی انگلی میں ایک انگوٹھی بھی تھی جس پر "ربی اللہ" (میرا رب اللہ ہے) کندہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ انھیں اسی حالت میں دوبارہ دفن کر دیا جائے۔[8]
احادیث میں ذکر
[ترمیم]صحیح مسلم میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ تفصیل سے مروی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک بوڑھا جادوگر تھا جس نے علم کی بقا کے لیے ایک ذہین لڑکے کا تقاضا کیا اور پھر وہی واقعہ راہب سے ملاقات، معجزات، آزمائش اور شہادت کی تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔[14] رسول اللہ ﷺ اس واقعے کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ سے اس جیسی آزمائش سے پناہ مانگا کرتے تھے۔[5]
تاریخی و جغرافیائی آراء
[ترمیم]مفسرین اور مؤرخین کے مابین اصحاب الاخدود کے مقام اور دور کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم سب سے مشہور اور معتبر روایت اسی نجران کے واقعے ہی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے تقریباً ستر سال قبل پیش آیا۔[8] مقاتل بن سلیمان کی ایک روایت کے مطابق تاریخ میں اس نوعیت کے تین بڑے واقعات پیش آئے: ایک یمن میں، دوسرا شام میں (جس کا ذمہ دار رومی بادشاہ انطانیوس تھا) اور تیسرا فارس (ایران) میں (جس کا ذمہ دار بخت نصر تھا)۔[15] حضرت علی بن ابی طالب سے ایک اور روایت میں اصحاب الاخدود کا تعلق مجوس (آتش پرستوں) سے بھی جوڑا گیا ہے، جن کے ایک بادشاہ نے محرمات سے نکاح حلال قرار دیا تھا اور مخالفت پر اپنے علما کو خندقوں میں جلا دیا۔[16] تاہم قرآن کریم کا بنیادی اور سب سے مستند اشارہ نجران کے واقعے ہی کی طرف مانا جاتا ہے۔[15]
موجودہ حالت
[ترمیم]نجران کا وہ گاؤں جہاں یہ واقعہ رونما ہوا، وقت کی گردشوں کے باعث ویران ہو چکا ہے اور وہاں صرف قدیم بستی کے کھنڈر باقی ہیں۔[17] اس پورے خرابے میں موجود واحد عمارت ایک تاریخی مسجد ہے، جسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اسی مقام پر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔[17] نجران کا یہ تاریخی مقام موجودہ دور میں سعودی عرب کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔[3]
اسلامی روایات میں مقام اور عبرت
[ترمیم]اصحاب الاخدود کا واقعہ ایمان پر ثابت قدمی اور ظلم کے خلاف استقامت کی ایک عظیم تمثیل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات کا بنیادی مقصد مکہ مکرمہ کے کمزور مسلمانوں کو تسلی دینا اور ان کے ایمان کو استقامت بخشنا تھا، جو قریش کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔[18] قرآن پاک میں ان ظالموں پر لعنت بھیجی گئی اور مؤمنین کی اس بے مثال استقامت کو سراہا گیا کہ جن کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو "عزیز" اور "حمید" ہے۔[18]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مفتی محمد تقی عثمانی (2010)۔ آسان ترجمہ قرآن۔ کراچی: مکتبہ معارف القرآن۔ ج 3۔ ص 1572
- ↑ ابو عبد اللہ قرطبی (1964)۔ الجامع لأحكام القرآن۔ قاہرہ: دار الکتب المصریہ۔ ج 19۔ ص 429
- 1 2 محمد بن محمد حسن شراب (1991)۔ المعالم الأثيرة في السنة والسيرة۔ دمشق: دار القلم۔ ج 1۔ ص 22
- ↑ عبد الرحمن بن محمد القماش (2019)۔ الحاوي في تفسير القرآن الكريم۔ رأس الخيمة: المكتبة الشاملة۔ ج 962۔ ص 408
- 1 2 جلال الدین سیوطی (1993)۔ الدر المنثور في التفسير بالمأثور۔ بیروت: دار الفکر۔ ج 8۔ ص 467
- 1 2 3 4 ابو محمد عبد الحق حقانی (1990)۔ تفسیر حقانی۔ کراچی: میر محمد کتب خانہ۔ ج 8۔ ص 89
- 1 2 3 4 5 مولانا سرفراز خان صفدر (1995)۔ ذخیرۃ الجنان۔ گوجرانوالہ: مکتبہ نصرۃ العلوم۔ ج 21۔ ص 153
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 قاضی ثناء اللہ پانی پتی (2004)۔ تفسیر مظہری۔ کراچی: دار الاشاعت۔ ج 12۔ ص 241
- 1 2 3 مولانا غلام اللہ خان (1990)۔ معالم العرفان فی دروس القرآن۔ گوجرانوالہ: مکتبہ دروس القرآن۔ ج 18۔ ص 190
- 1 2 3 ابو عبد اللہ قرطبی (1964)۔ الجامع لأحكام القرآن۔ قاہرہ: دار الکتب المصریہ۔ ج 19۔ ص 436
- ↑ فخر الدین رازی (2000)۔ مفاتیح الغیب۔ بیروت: دار إحیاء التراث العربي۔ ج 31۔ ص 343
- ↑ ابن جریر طبری (2001)۔ جامع البیان عن تأویل آی القرآن۔ قاہرہ: دار ہجر۔ ج 24۔ ص 279
- 1 2 ابن کثیر (2002)۔ تفسير القرآن العظيم۔ ریاض: دار ابن الجوزي۔ ج 7۔ ص 532
- ↑ صحیح مسلم: جلد سوم، حدیث نمبر 3010
- 1 2 ابن کثیر (2002)۔ تفسير القرآن العظيم۔ ریاض: دار ابن الجوزي۔ ج 7۔ ص 533
- ↑ ابن کثیر (2002)۔ تفسير القرآن العظيم۔ ریاض: دار ابن الجوزي۔ ج 7۔ ص 528
- 1 2 ابو عبيد البكري (1983)۔ معجم ما استعجم من أسماء البلاد والمواضع۔ بیروت: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 120
- 1 2 عبد الرحمن بن محمد القماش (2019)۔ الحاوي في تفسير القرآن الكريم۔ رأس الخيمة: المكتبة الشاملة۔ ج 961۔ ص 318