ولادیمیر لینن
ولادیمیر الیچ لینن | |
|---|---|
| ذاتی تفصیلات | |
| جماعت | بالشیوک پارٹی |
| مضامین بسلسلہ |
| مارکسیت–لیننیت |
|---|
ولادیمیرالیچ لینن (روسی زبان: Влади́мир Ильи́ч Ле́нин)، پیدائشی نام ولادیمیر الیچ الیانوف (روسی زبان: Влади́мир Ильи́ч Улья́нов) اور فرضی نام وی آئی لینن اور ایں لینن (پیدائش: 22 اپریل 1870ء - وفات: 21 جنوری 1924ء) سمبرسک میں پیدا ہوئے جو دریائے وولگا کے کنارے آباد ہے۔ لینن روسی انقلابی، اشتراکی سیاست دان، اکتوبر کے انقلاب کے رہ نما اور 1922ء روسی سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کے پہلے رہنما تھے۔ ٹائم میگزین نامی جریدے نے انھیں بیسویں صدی کے 100 بااثر افراد[1] میں سے ایک قرار دیا۔ نظریہ مارکس میں ان کے حصہ کو نظریہ لینن کہا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی
[ترمیم]لینن روسی سلطنت کے شہر سمبرسک (جس کا نام تبدیل کرکے الیانوسک کر دیا گیا) میں الیا نکولائیوچ اور ماریا ایلکزینڈرونا الیانووا[2] کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد تعلیم کے شعبہ میں ایک کامیاب روسی اہلکار تھے
1886ء میں ان کے والد دماغی شریانوں کے پھٹنے سے انتقال کر گئے۔ مئی 1887ء میں جب لینن سترہ سال کے تھے تو ان کے بھائی الیگزینڈر کو تسار الیگزینڈر سوم[3] پر ہونے والے قاتلانہ حملہ کے منصوبہ میں شامل ہونے کے شبہ میں گرفتار کر کے دہشت گردی کے الزام میں پھانسی دے دی گئی اور ان کی بہن اینا جو گرفتاری کے وقت اپنے بھائی کے ساتھ تھیں ، کو ملک بدر کر کے ان کو کوکشکینو بھیج دیا گیا جو کازان سے 25 میل دور ہے۔ اس واقعہ نے لینن کو انتہا پسند بنا دیا، سویت حکومت کی ان پر لکھی سوانح حیات میں ان واقعات کو ان کی انقلابی سوچ کا مرکز تحریر کیا ہے۔

اس سال جامعہ کازان میں ان کا داخلہ ان کے ذہن میں مچے جذباتی خلفشار کو نماہاں کرتا ہے۔ پیوٹر بیلوسو کی مشہور تصویر وی ول فالو اے ڈفرنٹ پاتھ (جو سوویت کتب میں لاکھوں کی تعداد میں چھپی)، میں لینن اور اس کی ماں کو ان کے بڑے بھائی کے غم میں نڈھال دکھایا گیا ہے۔ یہ فقرہ ‘ہم ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے’ لینن کی انقلابی سوچ کو لاقانونیت اور انفرادیت کی جگہ مارکس کے فلسفہ کی پیروی کرنے کی نشان دہی کرتی ہے۔ مارکس فلسفہ کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر وہ گرفتار بھی ہوئے، اپنے سیاسی نظریات کیوجہ سے انھیں جامعہ کازان سے خارج کر دیا گیا مگر انھوں نہ انفرادی طور پر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اس دوران میں کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل سے روشناس ہوئے۔ انھیں بعد میں جامع سینٹ پیٹرزبرگ میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور انھوں نے 1891ء میں محاماہ (انجمنِ وکلا)[4] میں شمولیت اختیار کی۔
جنوری 1892ء میں اول درجہ میں قانون کی سند حاصل کی۔ انھوں نے لاطینی اور یونانی زبان پر عبور حاصل کیا اور اس کے علاوہ انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانیں بھی سیکھیں، مگر انگریزی اور فرانسیسی میں ان کی صلاحیتیں محدود تھیں اور اس کے لیے انیسا آرمند سے فرانسیسی اور (1917ء میں) انگریزی مکالمہ ترجمہ کرانے میں مدد لیتے تھے۔ اسی سال انھوں نے جینیوا میں ”ایس ایں راوچ“ کو خط میں لکھا “میں فرانسیسی میں تقریر کرنے سے قاصر ہوں”۔[5]
انقلابی سرگرمیاں، سفر اور جلاوطنی
[ترمیم]لینن نے کچھ سالوں تک سمارا (دریائے وولگا کی ایک بندرگاہ۔[6]) میں وکالت کی، پھر 1893ء میں سینٹ پیٹرزبرگ اگئے۔ یہاں وکالت کی جگہ انھوں نے ایک مقامی مارکسی جماعت کے ساتھ انقلابی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ سات دسمبر 1895ء میں لینن کو گرفتار کر لیا گیا اور چودہ مہینے قید سے رہائی کے بعد سُشینسکوئے، سائئبیریا بھیج دیا گیا۔ وہاں ان کی ملاقات معروف مارکسی ہستیوں سے ہوئی جن میں گیورگی پلیخانوو بھی تھے جنھوں نے روس میں اشراکیت کو متعارف کرایا[7]

جولائی 1898ء میں لینن نے اشتراکی کارکن نادیزدہ کرپسکایا سے شادی کی اور اپریل 1899ء میں ان کی کتاب “روس میں اشتراکیت کا ارتقا” The development of Socialism in Russia شائع ہوئی۔[8] 1900ء میں اپنی جلاوطنی کے خاتمہ پر انھوں نے روس اور یورپ کے دیگر ممالک میں دوبارہ سفر کرنا شروع کیا۔ لینن زیورخ، جینیوا، میونخ، پراگ، ویانا، مانچسٹر اور لندن میں قیام پزیر رہے اور اسی دوران میں جولیس مارٹوو کیساتھ ”اسکرا“ ''Iskra'' (جس کے معانی چنگاری کے ہیں) نامی اخبار نکالا، مارٹوو بعد میں ان کے حریف بنے۔ انھوں نے مستقبل کے جمہوریت پسند حامیوں کی تلاش میں انقلاب پر کئی اور کتب اور مکالمے لکھے۔ لینن نے کئی عرفیت استعمال کیں مگر آخر میں لینن پر اکتفا لیا - مکمل شکل میں ”این لینن“۔ (مغربی اخبارات نے این لینن سے ان کا نام نکولائ لینن فرض کر لیا جو غلط ہے اور روس میں انھیں کبھی اس نام سے نہیں جانا گیا، خود لینن نے کبھی یہ عرفیت استعمال نہیں کی)۔
لینن روسی اشتراکی جمہوری مزدور جماعت (RSDLP, روسی زبان میں РСДРП) کے سرگرم کارکن تھے اور 1903ء میں بولشیوک فرقہ کو لے کر مینشیوک سے الگ ہو گئے۔ جماعت میں شمولیت کے لیے ہمدردوں کی جگہ محض انقلاب پسندوں کا انتخاب لازمی قرار دینے کی رائے شماری میں مینشیوک کی ہار پر ان کے نام بولشیوک یعنی اکثریت اور مینشیوک یعنی اقلیت پڑے۔ اس تقسیم کو لینن کے کتابچہ کیا کرنا چاہئے(1901–1902) واٹ از ٹو بی ڈن؟ نے متحرک کیا، جس میں انقلاب کی حکمت عملی پر غور کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قبل از انقلاب یہ اہم ترین کتابچہ تھا، لینن نے اس سلسلہ میں کہا کے ہر پانچ میں سے تین کارکنوں نے یا تو یہ خود پڑھا ہے یا کسی سے سنا ہے۔[9]
نومبر 1905ء میں جلاوطنی سے 1905 کے روسی انقلاب کے لیے روس واپس آئے۔ 1906 میں۔[10] RSDLP کی صدارت کے لیے منتخب ہوئے، اس دوران میں روس اور فن لینڈ کے بیچ کئی چکر لگائے مگر دسمبر 1907 میں انقلابی مہم کو تساری اختیاریوں نے دبا دیا اور لینن ایک بار پھر یورپ واپس آ گئے[11] 1917 کے انقلاب تک انھوں نے بیشتر وقت یورپ میں گزارا اور غربت کے باوجود سیاسی تحریریں جاری رکھیں۔[12]
اشتراکی انقلاب پر ہونے والے فلسفانہ مباحثوں کے جواب میں 1909 میں مادہ پرستی اور اتائ تنقید لکھا جو مارکسی-لیننی فلسفہ کی بنیاد بنا۔ لینن نے اپنا یورپی سفر جاری رکھا اور کئی اشتراکی اجتماع اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہے، جس میں 1912 کی پراگ جماعتی اجلاس شامل ہیں۔ انیسا آرمند نے روس سے پیرس منتقل ہونے کے بعد لینن سمیت کئی اور بولشیوکوں سے ملاقات کی، کہا جاتا ہے کے لینن اور ان کے بیچ محبت[13] کے جذبات تھے مگر اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

1914ء میں پہلی جنگِ عظیم کے ابتدا میں یورپ کی تمام بڑی جمہوری اشتراکی جماعتوں (جو خود کو مارکسی نظریہ کا حامل کہتی تھیں اور ان میں کارل کاٹسکی جیسے ماہر اشتراکیات شامل تھے) کا جنگی مہم جوئی میں اپنے ملک کی حمایت سے لینن کو یہ جان کر شدید دھچکا لگا اور انھوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کے جرمن جمہوری اشتراکی جماعت نے جنگ کے حق میں رائے دی۔ اس واقعہ سے بین الاقوامی دوم جو ایسی کئی جماعتوں سے مل کر بنی تھی پاش پاش ہو گئی۔ لینن (جنگ ان کے مطابق اونچے طبقہ کی لڑائ میں مزدوروں اور کسانوں کا استعمال ہے) یہ جو نقطۂ نظر اختیار کیا اس کے حساب سے یہ ”سامراجی جنگیں“ طبقاتی خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لیں گی۔ جنگ چھڑنے کے بعد لینن کو آسٹریائ حکومت نے پورونن نامی شہر میں روکے رکھا۔ پانچ ستمبر 1914ء میں لینن غیر جانبدار سوئٹزرلینڈ آ گئے، پہلے برن میں رہے پھر زیورخ آ گئے۔ 1915ء میں سوئٹزرلینڈ میں جنگ کے خلاف ہونے والے زمروالڈ اجلاس میں شریک ہوئے۔ لینن اس اجلاس میں زمروالڈ کے بائیں اقلیتی حصّہ کی نمائندگی کی، مگر اجلاس میں شامل اکثریتی امن پسندوں کو اس سامراجی جنگ کو طبقاتی جنگ میں بدلنے کے نظریہ کو منوانے میں ناکام رہے۔ اگلے سال سوئٹزرلینڈ ہی کے شہر کینتھل میں (24-30 اپریل 1916ء) خلافِ جنگ اجلاس میں زمروالڈ کے بائیں بازو نے ایسی ہی قرارداد پیش کی مگر آخر میں مفاہمتی منشور پر سمجھوتا ہوا۔[14]
1916ء میں زیورخ میں لینن نے اہم نظریاتی نسخہ سامراجیت، سرمایہ داری کی انتہا لکھا۔[15] اس نسخہ میں دی گئی دلائل کے مطابق بینکوں کا انظمام اور صنعتوں میں اتحاد تِجّار، مالیاتی سرمایہ کاری کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ داری کی آخری مرحلہ میں زیادہ منافع کی تلاش میں سرمایہ برآمد ہو جاتا ہے۔[16] اس کے نتیجہ میں دنیا بین الاقوامی اجارہ داروں اور یورپی ممالک (کی کاروباری مقاصد کے تحت دنیا کے بیشتر حصوں میں قائم شدہ بستیوں) کے درمیان میں بٹ کر رہ گئی ہے۔
روس واپسی
[ترمیم]
1917ء میں روس کے انقلابِ فروری اور تسار نکولس دوم حکومت سے دستبردار ہونے کے بعد لینن نے اندازہ لگا لیا کے اب ان کا جلد از جلد روس پہنچنا ضروری ہے، مگر جنگ عظیم کے دوران میں غیر جانبدار سوئٹزرلینڈ میں رہنے کیوجہ سے وہ حالات حاضرہ سے کٹ کر رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود سوئس اشتراکی فرٹز پلاٹن جرمن حکومت کو لینن کو جرمنی کے راستے بند ٹرین میں لینن اور اس کے ساتھیوں کو سفر کرنے کی اجازت دے دی۔ جرمن حکومت کا اصل مقصد روس میں سیاسی تناؤ پیدا کرنا تھا تاکہ مشرقی سرحدوں پر جنگ بندی ہو جائے اور وہ مغربی اتّحادیوں کو شکست دے سکے۔جرمنی سے نکلنے کے بعد لینن کشتی کے ذریعہ سوئڈن پہنچے اور باقی اسکینڈینیویا میں ان کے سفر کا بندوبست سوئیڈش اشتراکی اوٹو گرملند اور تور نرمن نے کیا۔
16 اپریل 1917ء میں لینن کی ٹرین کو فن لینڈ میں پیٹروگارڈ۔،[17] کے ریلوے اڈا پر ہنگامہ انگیز استقبالیہ ملا۔ انھوں نے فورا ہی بولشیوک تحریک کی کمان سنبھال لی اوراپریل مقالہ شائع کرایا[18] جو عارضی حکومت کے ساتھ غیر مصالحتی مخالفت کا کھلا اعلان تھا۔ ابتدائی طور پر لینن نے اپنی جماعت کا جھکاؤ بائیں طرف رکھ کر اسے علاحدہ رکھا۔ حالانکہ اس غیر مصالحتی رویہ سے بولشیوک ان لوگوں کا گھر بن جاتا جو عارضی حکومت کے فریبِ نظر سے باہر آتے اور اس کے علاوہ حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کیوجہ سے بولشیوک پر حکومتی حکمتِ عملی کی تعمیل کرانے کی بھی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی[19]
اس دوران میں الیکزنڈر کیریننکی، گریگوری الیکسنسکی اور دوسرے مخالفین نے بولشیوک اور خاص طور پر لینن پر جرمن ایجنٹ[20] ہونے کا الزام لگایا جس کے جواب میں لیون ٹراٹسکی ایک نئے بولشیوک راہنماء نے 17 جولائی کو ایک دفائ تقریر میں جو کہا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں،
”ایک ناقابل برداشت فضاء قائم کردی گئی ہے، جس میں میرا اور آپ سب کا دم گھٹ رہا ہے۔ لینن اور زنوویو پرغلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ لینن نے تیس سال انقلابی جنگ میں گزارے ہیں، میں نے بیس سال انسانی ظلم و زیادتی کیخلاف لڑے ہیں۔ اور ہم کچھ نہیں بس جرمن فوجی مہم جوئی کی مزمت کرتے ہیں۔۔۔۔ مجھے جرمن عدالت نے جرمن فوجی مہم جوئ کی مخالفت پر 8 مہیننہ جیل سنائی۔ یہ سب جانتے ہیں۔ اس کمرے میں کسی کو حق نہیں کے وہ ہمیں جرمن کرائے کا ٹٹو کہے“۔[21]
جولائی کے دنوں کے ہنگاموں کے بعد دار الحکومت میں کارکنوں اور فوج کا حکومتی دستوں سے جھڑپوں کے بعد لینن جان بچانے فن لینڈ بھاگ گئے تاکہ کرینسکی ان کو گرفتار نا کرالے۔ ان ہنگاموں میں بولشیوک کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ابھی انقلاب کا صحیح وقت نہیں آیا تھا، لینن کے مطابق : شہر میں کارکنان تیار بیٹھے تھے مگر ابھی کسانوں کی حمایت باقی تھی۔ فن لینڈ کے مختصر قیام کے دوران میں انھوں نے اپنی کتاب مملکت اور انقلاب ختم کی، جس میں ایک نئی حکومتی ڈھانچے کا خیال پیش کیا جو مزدور یونین پر مبنی ہو اور اس کا انتخاب اور منسوخی بھی وہی کریں۔ اگست میں جنرل کورنیلوو کے حملہ کی کوشش منسوخی کے بعد اکثریت نے بولشیوک کے ’امن، روٹی اور زمین‘ کے نعرہ کا ساتھ دیا۔ بولشیوک رہنماؤں کو جیلوں سے رہا کر دیا گیا اور لینن اکتوبر میں پیٹروگارڈ واپس آئے اور اکتوبر کے انقلاب کو ”تمام طاقت سوویت کے پاس!“ کا نعرہ دیا اور 6-8 نومبر کے دوران میں عارضی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے سمولنی ادارہ سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ سات اور آٹھ نومبر کی رات ونٹر پیلیس ہر دھاوا سوویت اقتدار کا سنگ بنیاد بنا۔
سوویت اسٹیٹ کے رہنما
[ترمیم]
8 نومبر 1917ء میں روسی سوویت کانگریس نے لینن کو چیئر آف دی کاؤنسل آف پیپلرز کامیسارز کے لیے منتخب کیا۔
”اشتراکیت سویت طاقت اور ملک میں بجلی کی ترسیل کا مجموعہ ہے۔“[22] اس بات سے لینن کا مقصد صنعت اور زراعت میں جدت پیدا کرنے کے لیے روس کے کونے کونے میں بجلی کی فراہمی ہے۔
”ہمیں کسانوں کو دکھانا ہے کہ کسطرح صنعت کی تنظیم کے لیے جدت اور فنیات کی پیش قدمی میں بجلی کی فراہمی کی افادیت، جو شہروں اور دیہاتوں کے درمیان میں رابطہ قائم کرے گی اور ان کا فرق مٹائے گی اور ممکن کرے گی نواحی علاقوں میں معیار زندگی کو بلند کرنا اور قابو کرنے میں دور دراز کے علاقوں سے دقیانوسیت، جہالیت، غربت، بیماریوں اور بربریت کو۔“[23]
انھوں نے GOELRO پلان کا سنگ بنیاد رکھا اور اپنی نگرانی میں اس کی تدبیر اور تکمیل رکھی، یہ پہلا سوویت منصوبہ برائے قومی اقتصادی استحصال اور ترقی تھا۔ ان کی اہم ترین فوقیات میں مفت صحت عامہ، عورتوں کے حقوق اور ان پڑھ روسی باشندوں کو تعلیم دلانا تھا۔ مگر یہ سب کرنے سے پہلے بولشیوک حکومت کو پہلی جنگ عظیم سے روس کو باہر نکالنا تھا۔[24]
جرمنی کی مغربی سرحدوں پر سرگرمیوں کے پیش نظر لینن نے فوراّ امن معاہدہ کرنے خیال ظاہر کیا، دوسرے بولشیوک سربراہ جیسے بخارن نے جنگ جاری رکھنے کی حمایت کی تاکہ جرمنی میں بھی انقلاب لایا جاسکے۔ ٹراٹسکی جو مزاکرات کی سربراہی کر رہے تھے، ”نہ جنگ، نہ امن“ کی تائید کی اور اس صورت میں امن معاہدہ پر کرنے کو تیار ہوئے کے کوئی فریق قبضہ کی زمین پر حق نہیں جمائے گا۔ مزاکرات کی ناکامی کے بعد جرمن فوج نے ایک بار پھر فوجی کارروائی شروع کردی جس کے نتیجے میں روس نے اپنا مغرم میں کافی حصّہ گنوا دیا۔ ان واقعات نے لینن کی سربراہی کو بولشیوک حکومت اکثریتی حمایت دلائی۔ تین مارچ 1918ء میں لینن نے روس کو پہلی جنگ عظیم سے بریسٹ-لٹوسک معاہدہ پر راضی ہوکہ باہر نکال لیا، جس کے باعث روس نے یورپ میں اپنا کافی حصہ گنوا دیا۔
انیس جنوری میں روسی مجلس دستور ساز اپنے پہلے اجلاس میں برخاست کر دی گئی اور بولشیوک نے اپنے بائیں اشتراکی انقلابیوں کے اتحاد میں سوویتوں کا ہاتھ پکڑے رکھا۔
بولشیوک نے اشتراکی انقلابیوں بائیں بازو کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی، مگر یہ اتحاد زیادہ عرصہ نہ چل سکا جب اشتراکی انقلابیوب نے بریسٹ-لٹوسک معاہدہ کی مخالفت کر دی اور بولشیوک حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دوسری جماعتوں کا رخ کیا۔ لینن نے ان سرگرمیوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی جن میں مخالف جماعتوں کے کچھ کارکنوں کو جیل بھی بھیجا گیا۔
1918 کے ابتدا میں لینن نے مہم کا آغاز کیا جس میں فرد واحد (اسٹیٹ کا وہ ذمہ دار جس سے مزدور اصلاحات کا مطالبہ کر سکیں) کو ہر ادارے کا ذمہ دیا گیا (جس کے حکم کی تعمیل مزدوروں پر اس کے برخاست ہونے تک لازمی تھی) یہ مزدوروں کے خود نظامی تصور سے برعکس تھا اس کے باوجود لینن نے اسے مہارت حاصل کرنے کے لیے لازمی قرار دیا (خود نظامی نظریہ کے حامیوں نے اس اقدام کا مقصد مزدوروں پر مکمل حکومتی تسلط قائم رکھنا بتایا اور خود نظامی تصور کی ناکامی کی ذمہ داری وسائل کی کمی کو ٹھرایا - ایک ایسا مسئلہ جسے ایک مہینہ تک حکومت کی مزدوروں کی اجارہ داری نے ثابت کر دیا) جیسے ایس۔ اے۔ اسمتھ لکھتے ہیں ”خانہ جنگی کے اختتام پر صنعتی نظام کی جمہوری صورت میں سے کچھ ہی باقی بچا جس کی 1917ء میں صنعتی کمیٹیوں نے ترغیب دی تھی، مگر حکومت کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ صنعت کی ملکیت