روس
روسی وفاق Российская Федерация Rossiyskaya Federatsiya | |
|---|---|
| ترانہ: روس کا قومی ترانہ | |
| دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر | ماسکو |
| سرکاری زبانیں | روسی زبان |
| نسلی گروہ | |
| آبادی کا نام | روسی |
| حکومت | وفاقی نیم صدارتی جمہوریہ |
• صدر روس | ولادیمیر پیوٹن |
| سانچہ:وزیر اعظم روس | |
| رقبہ | |
• کل | 17,098,242 کلومیٹر2 (6,601,668 مربع میل) (اول) |
• پانی (%) | 13%[1] |
| آبادی | |
• 2015 تخمینہ | 144,192,450[2] |
• کثافت | 8.4/کلو میٹر2 (21.8/مربع میل) |
| جی ڈی پی (پی پی پی) | 2016 تخمینہ |
• کل | $3.685 ٹریلین |
| جی ڈی پی (برائے نام) | 2016 تخمینہ |
• کل | $1.133 ٹریلین |
| کرنسی | روس روبل (₽) (RUB) |
| منطقۂ وقت | یو ٹی سی+2 to +12 |
| تاریخ فارمیٹ | dd.mm.yyyy |
| ڈرائیونگ سائیڈ | right |
| کالنگ کوڈ | +7 |
| انٹرنیٹ ایل ٹی ڈی | |
| |
روس (روسی: Россия؛ انگریزی: Russia)، جسے باضابطہ طور پر روسی وفاق کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا پر محیط ہے۔ روس کی زمینی حدود 17,098,246 مربع کلومیٹر (6,601,668 مربع میل) پر پھیلی ہوئی ہیں، جو اسے رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بناتی ہیں اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ روس کی آبادی تقریباً 146 ملین ہے، جو اسے یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے، جب کہ اس کی دار الحکومت ماسکو، یورپ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ روس کے اہم شہر ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔[3]
روس ایک وفاقی نیم صدارتی جمہوریہ ہے، جس کا صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ روس کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور یہ قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس اور معدنیات کے ذخائر کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ روسی تاریخ اور ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ ملک عالمی سیاست، معیشت اور عسکری معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔[4]
روس کی سرحدیں شمالی یورپ، مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے کئی ممالک کے ساتھ ملتی ہیں اور اس کی جغرافیائی وسعت اسے مختلف ثقافتوں، تہذیبوں اور قدرتی ماحول سے مالا مال بناتی ہے۔[5]
تاریخ
[ترمیم]روس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے اور یہ مختلف ادوار اور تبدیلیوں سے گذری ہے۔ قدیم مشرقی سلاو سے لے کر جدید روس تک، اس کی تاریخ میں سلطنتوں کا عروج و زوال، عالمی جنگیں، انقلابات اور سرد جنگ جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔
قدیم روس اور کیوان روس
[ترمیم]روس کی تاریخ کا آغاز مشرقی سلاو قبائل سے ہوتا ہے، جو تیسری اور آٹھویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں ایک تسلیم شدہ گروہ کے طور پر ابھرے۔[6] ان قبائل نے مختلف علاقوں میں اپنی آبادی کو بڑھایا اور نویں صدی تک کیوان روس کی بنیاد رکھی۔
کیوان روس کا قیام
[ترمیم]کیوان روس ایک طاقتور مشرقی سلاوی ریاست کے طور پر نویں صدی میں ابھری اور اس کا مرکز موجودہ یوکرین کا شہر کیف تھا۔[7] ولادیمیر اعظم کے دور حکومت میں 988 عیسوی میں بازنطینی سلطنت سے مشرقی آرتھوڈوکس عیسائیت کو اپنایا گیا، جو بعد میں روسی ثقافت اور تاریخ کا اہم جزو بن گیا۔
کیوان روس کا زوال
[ترمیم]کیوان روس کا زوال 12ویں صدی میں شروع ہوا جب اندرونی تقسیم اور بیرونی حملوں نے ریاست کو کمزور کر دیا۔[8] منگولوں کے حملوں نے بالآخر کیوان روس کو ختم کر دیا اور ریاست مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گئی۔
ماسکوی روس اور زار شاہی
[ترمیم]کیوان روس کے زوال کے بعد، ماسکوی روس نے اہمیت حاصل کی اور 14ویں صدی میں ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھری۔[9] ماسکو نے رفتہ رفتہ دیگر روسی علاقوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا اور روس کا ایک متحدہ ریاست بننے کا عمل شروع کیا۔
روسی سلطنت کا قیام
[ترمیم]1547 میں، ایوان چہارم نے خود کو روس کا پہلا زار قرار دیا، جس کے ساتھ روسی زارڈم کا آغاز ہوا۔[10] ایوان چہارم نے اپنے دور میں روس کی سرحدوں کو وسعت دی اور داخلی اصلاحات کیں، لیکن اس کا دور سختی اور جبر کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
پیٹر اعظم اور روس کی توسیع
[ترمیم]18ویں صدی کے اوائل میں پیٹر اعظم نے روسی سلطنت کی بنیاد رکھی اور روس کو ایک جدید یورپی طاقت کے طور پر ابھارا۔[11] پیٹر اعظم نے روس میں مغربی طرز کی اصلاحات متعارف کرائیں اور سینٹ پیٹرزبرگ کو دار الحکومت بنایا۔ ان کے دور میں روس نے بحیرہ بالٹک تک رسائی حاصل کی اور یورپی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔
روسی انقلاب اور سوویت یونین کا قیام
[ترمیم]1917 میں، روس میں انقلاب اکتوبر برپا ہوا جس کے نتیجے میں زار نکولس دوم کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور بالشویک پارٹی نے لینن کی قیادت میں اقتدار سنبھالا۔[12] اس انقلاب نے روس کو دنیا کی پہلی آئینی سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کر دیا۔
سوویت یونین کا قیام
[ترمیم]1922 میں، روسی SFSR نے دیگر سوویت جمہوریہ کے ساتھ مل کر سوویت یونین کی بنیاد رکھی۔[13] سوویت یونین کے قیام کے بعد روس میں تیز رفتار صنعتی ترقی ہوئی اور ریاست نے زبردست سیاسی اور عسکری طاقت حاصل کی۔
سٹالن کا دور
[ترمیم]1930 کی دہائی میں، جوزف سٹالن نے اقتدار سنبھالا اور سوویت یونین کو تیزی سے صنعتی ترقی کی طرف لے گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر جبر اور قتل عام بھی ہوا۔[14] سٹالن نے دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرقی محاذ پر اتحادیوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
سرد جنگ کا آغاز
[ترمیم]دوسری جنگ عظیم کے بعد، سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی جس میں دونوں ممالک نے عالمی اثر و رسوخ کے لیے نظریاتی اور عسکری مقابلہ کیا۔[15] سوویت یونین نے ایسٹن یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کو مضبوط کیا اور خلائی دوڑ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
سوویت یونین کا خاتمہ اور جدید روس
[ترمیم]1991 میں، سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور روسی SFSR ایک آزاد ریاست کے طور پر روسی فیڈریشن میں تبدیل ہو گئی۔[16] ایک نیا آئین اپنایا گیا جس نے ایک وفاقی نیم صدارتی نظام قائم کیا۔
ولادیمیر پوتن کا دور اقتدار
[ترمیم]صدی کے آغاز سے، ولادیمیر پوتن روس کے سیاسی نظام پر حاوی رہے ہیں۔ ان کے دور میں روس نے سیاسی اور اقتصادی استحکام حاصل کیا، لیکن ان کے دور میں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے حوالے سے شدید تنقید بھی ہوئی۔[17]
روسی خارجہ پالیسی اور یوکرین تنازع
[ترمیم]روسی خارجہ پالیسی نے 21ویں صدی کے آغاز میں اہم تبدیلیاں دیکھی ہیں، خصوصاً سابق سوویت ریاستوں اور مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے۔ یوکرین کے ساتھ تنازع اس پالیسی کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر روس کی ساکھ اور اقتصادیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔[18] 2014 میں، روس نے کریمیا کو یوکرین سے الگ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا، جس پر عالمی برادری میں تنازع کھڑا ہوا۔[19] 2022 میں، روس نے یوکرین پر حملہ کیا اور مزید علاقوں کو روس میں شامل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
2008 کا جارجیا تنازع
[ترمیم]روسی خارجہ پالیسی کے جارحانہ موڑ کی پہلی واضح مثال 2008 میں سامنے آئی جب روس نے جارجیا پر حملہ کیا۔ اس تنازعے کے دوران روس نے ابخازیا اور جنوبی اوسیشیا کو آزاد ریاستیں قرار دیا، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔[20]
کریمیا کا الحاق (2014)
[ترمیم]2014 میں، روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا پر قبضہ کر لیا اور اسے روس میں ضم کر لیا۔ اس اقدام کو بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی ممالک، نے غیر قانونی قرار دیا اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔[21] اس واقعے نے روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کیا۔
مشرقی یوکرین میں تنازع
[ترمیم]کریمیا کے الحاق کے بعد، روس نے ڈونیسک اور لوہانسک جیسے مشرقی یوکرینی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں مشرقی یوکرین تنازعہ شروع ہوا۔ روس نے اپنے براہ راست فوجی کردار سے انکار کیا، لیکن مغربی ممالک نے روس پر باغیوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔[22]
2022 یوکرین کا حملہ
[ترمیم]فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا، جسے روس-یوکرین جنگ کہا جاتا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔[23] اس دوران روس نے مزید چار یوکرینی علاقوں، یعنی ڈونیسک, لوہانسک, خیرسون اور زاپوریژیا کو روس میں ضم کرنے کا اعلان کیا، جس پر مغربی ممالک نے مزید پابندیاں عائد کیں۔
مغربی پابندیاں اور روسی معیشت
[ترمیم]یوکرین پر حملے کے بعد روس پر مغربی ممالک نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جن میں بین الاقوامی بینکاری نظام سے نکالنا، توانائی کے شعبے میں پابندیاں اور روسی کمپنیوں اور عہدے داروں کے اثاثے منجمد کرنا شامل ہیں۔[24] ان پابندیوں نے روسی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، لیکن روس نے متبادل اقتصادی راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
چین اور روس کے تعلقات
[ترمیم]مغربی پابندیوں کے بعد، روس نے اپنے اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو چین کے ساتھ مضبوط کیا۔ چین نے روس کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، خصوصاً توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔[25] دونوں ممالک نے عسکری اور تجارتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کا کردار
[ترمیم]یوکرین تنازعے کے دوران، روس نے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک کی جانب سے اس کے خلاف عائد کردہ قراردادوں کو روکا۔ روس نے عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا، لیکن اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔[26]
روس اور نیٹو
[ترمیم]روسی خارجہ پالیسی میں نیٹو کو اہم مخالف سمجھا جاتا ہے۔ روس کے لیے نیٹو کی مشرقی یورپ میں توسیع نے خدشات کو جنم دیا، جسے روس اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ یوکرین میں نیٹو کے ساتھ براہ راست تصادم کے خطرات نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔[27]
جغرافیہ
[ترمیم]روسیہ کا جغرافیہ دنیا کا سب سے بڑا اور متنوع ہے، جس میں مختلف نوعیت کے موسمی حالات، زمین کے مختلف اقسام اور حیاتیاتی تنوع شامل ہیں۔ روس مشرقی یورپ سے لے کر شمالی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد پر محیط ہے۔
محل وقوع اور سرحدیں
[ترمیم]روسیہ یوریشیا کے شمالی حصے میں واقع ہے اور یہ 17,098,246 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔[28] روس کی زمینی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں، جن میں ناروے، فن لینڈ، استونیا، لیٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، بیلاروس، یوکرین، جارجیا، آذربائیجان، قازقستان، چین، منگولیا اور شمالی کوریا شامل ہیں۔
بحری سرحدیں
[ترمیم]روس کی بحری سرحدیں بحیرہ بالٹک، بحیرہ اسود، بحیرہ قزوین، بحر جاپان، بحر اوخوتسک اور آرکٹک سمندر سے ملتی ہیں، جو اسے شمالی اور مشرقی یورپ کے علاوہ شمالی ایشیا کے بڑے حصوں سے مربوط کرتی ہیں۔[29]
اہم جزیریں اور جزائر
[ترمیم]روس میں متعدد اہم جزائر اور جزیریں شامل ہیں، جن میں سخالین جزیرہ، کوریل جزائر اور نوا یا زملیا جیسے بڑے جزیرے شامل ہیں۔ ان جزیروں کی جغرافیائی حیثیت روس کے آرکٹک اور بحیرہ جاپان کے علاقوں میں دفاعی اور اقتصادی اہمیت رکھتی ہے۔[30]
قدرتی زمینی خصوصیات
[ترمیم]روسیہ میں مختلف قدرتی زمینی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جن میں میدانی علاقے، پہاڑی سلسلے، دریا، جھیلیں اور جنگلات شامل ہیں۔ روس کی سرزمین مختلف خطوں میں تقسیم ہے، جن میں یورپی روس اور ایشیائی روس (سائبیریا) اہم ہیں۔
یورپی روس
[ترمیم]یورپی روس، جو روس کی مغربی سرحدوں سے یورال پہاڑ تک پھیلا ہوا ہے، روس کا سب سے زیادہ آبادی والا حصہ ہے۔ یہاں بڑے میدانی علاقے ہیں، جن میں والگا دریا اور ڈون دریا جیسی اہم آبی گذرگاہیں شامل ہیں۔[31] یہ علاقہ زرعی پیداوار کے لیے بھی اہم ہے اور یہاں بڑے شہر، جیسے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ واقع ہیں۔
والگا دریا
[ترمیم]والگا دریا روس کا سب سے بڑا اور لمبا دریا ہے، جو 3,692 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یورپ کا سب سے لمبا دریا بھی ہے۔ یہ کیسپین سمندر میں جا کر گرتا ہے اور اس کے اطراف کا علاقہ زرعی اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔[32]
ایشیائی روس (سائبیریا)
[ترمیم]روس کا ایشیائی حصہ، جو یورال پہاڑوں سے بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے، سائبیریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر جنگلات، دریا اور برفانی میدانوں پر مشتمل ہے اور یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔[33]
سائبیریا کے اہم دریا
[ترمیم]سائبیریا میں دنیا کے کچھ بڑے دریا شامل ہیں، جن میں اوب دریا، ینسی دریا اور لینا دریا شامل ہیں۔ یہ دریا سائبیریا کے بڑے حصوں کو آبی وسائل فراہم کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
جھیل بیکال
[ترمیم]جھیل بیکال دنیا کی گہری ترین اور سب سے پرانی میٹھے پانی کی جھیل ہے، جو سائبیریا میں واقع ہے۔ اس میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد میٹھے پانی کے ذخائر موجود ہیں اور اس کی حیاتیاتی اہمیت بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔[34]
روس کے پہاڑی سلسلے
[ترمیم]روس میں کئی اہم پہاڑی سلسلے واقع ہیں، جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
یورال پہاڑ
[ترمیم]یورال پہاڑ روس کے یورپی اور ایشیائی حصوں کے درمیان قدرتی سرحد کا کام کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ معدنیات کے لحاظ سے مالا مال ہیں اور روسی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔[35]
کوہ قفقاز
[ترمیم]کوہ قفقاز روس کی جنوبی سرحدوں پر واقع ہیں اور یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی سرحد بھی تصور کیے جاتے ہیں۔[36] یہاں روس کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ البروز بھی واقع ہے، جو 5,642 میٹر بلند ہے۔
مشرقی روس کے پہاڑی سلسلے
[ترمیم]مشرقی روس میں کامچاٹکا کے پہاڑی سلسلے اور آتش فشاں واقع ہیں۔