مندرجات کا رخ کریں

مسجد عمرو بن العاص (دمیاط)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مسجد عمرو بن العاص

ملک مصر   ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جگہ دمیاط   ویکی ڈیٹا پر  (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اتسمى لـ عمرو ابن العاص   ویکی ڈیٹا پر  (P138) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نقشہ
إحداثيات 31°25′23″N 31°49′05″E / 31.42308333°N 31.818°E / 31.42308333; 31.818   ویکی ڈیٹا پر  (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جامع عمرو بن العاص یہ مصر میں تعمیر کی جانے والی دوسری مسجد ہے اور دمیاط کی قدیم ترین اور مشہور مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اسے مسلمانوں نے 21 ہجری میں شہر کے فتح کے بعد تعمیر کیا اور اس کی تکمیل 642 عیسوی میں ہوئی۔ اس کی تعمیر جامع عمرو بن العاص (جو مصر کے قدیم علاقے الفسطاط میں واقع ہے) کے طرز پر کی گئی ہے۔ اس میں کوفی خط کی تحریریں کندہ ہیں اور اس کے ستون رومی دور کے ہیں۔ اسے "مسجد الفتح" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ اسلامی فتح کی یادگار ہے۔ اس مسجد کو جلیل القدر صحابی حضرت مقداد بن اسودؓ نے حضرت عمرو بن العاصؓ کے عہد میں تعمیر کروایا۔[1][2][3]

معماری ساخت

[ترمیم]

مسجد کے وسط میں ایک گنبد ہے، جس کے گرد چار ایوانات موجود ہیں۔ مغربی سمت میں اس کا مرکزی دروازہ واقع ہے، جو دیوار سے نمایاں طور پر آگے بڑھا ہوا ہے۔ دروازے کے قریب ایک مربع شکل کی مینار کی بنیاد موجود تھی، جو قدیم زمانے میں زلزلے کے باعث منہدم ہو گئی۔ اس مسجد کی تاریخ کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اسے کئی بار مسجد سے گرجا اور پھر مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ 1219 عیسوی میں جب جان دی بریین نے دمیاط پر قبضہ کیا تو اس مسجد کو چرچ میں بدل دیا۔ لیکن جب 1221 عیسوی میں صلیبی دمیاط سے نکلے تو اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

1249 عیسوی میں جب لوئس نہم دمیاط میں داخل ہوا، تو اس نے اس مسجد کو ایک عظیم کلیسا میں بدل دیا اور یہاں مذہبی تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں نائبِ پاپا بھی شریک ہوتا تھا۔ اسی مسجد میں لوئس نہم کے بیٹے جان کی بپتسمہ کی تقریب بھی ہوئی، جسے "تھریستان" (یعنی غمزدہ) کا لقب دیا گیا، کیونکہ اس کی پیدائش کے وقت شہر جنگ کی تباہ کاریوں سے گذر رہا تھا۔ یہ مسجد فاطمیوں کی تجدید کے بعد 1106 عیسوی سے آج تک قائم ہے۔

مرمت

[ترمیم]

دمیاط کے اس تاریخی مسجد کی بحالی کے لیے گورنری نے سپریم کونسل آف اینٹیکویٹیز کے ساتھ مل کر ضروری مرمت کا کام انجام دیا۔ وزارتِ ثقافت، سپریم کونسل آف اینٹیکویٹیز کے ذریعے، دمیاط کے آثارِ قدیمہ کی مکمل بحالی کا منصوبہ شروع کیا، جس پر 66 ملین مصری پاؤنڈز کی لاگت آئی۔ اس منصوبے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ مسجد عمرو بن العاص، جو الفسطاط میں واقع جامع عمرو بن العاص کے طرز پر تعمیر کی گئی تھی، ایک کھلے صحن پر مشتمل ہے، جس کے اردگرد چار ایوانات ہیں۔ سب سے بڑا ایوان رواقِ قبلہ ہے، جو جنوب مشرق میں واقع ہے۔ فاطمی دور میں 500 ہجری (1106 عیسوی) میں اس مسجد کو توسیع دی گئی اور اس کے رقبے میں اضافہ کیا گیا۔ یہ مسجد فاطمی تجدید کے بعد 1250 عیسوی تک قائم رہی، لیکن جب مملوک حکمرانوں نے دمیاط کو تباہ کرنے کا حکم دیا تو انھوں نے اس مسجد کو برقرار رکھا۔

مسجد کو زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث نقصان پہنچ رہا تھا، جس کی وجہ سے کئی سال قبل مسجد کی زمین بلند کرنے اور پانی کے اخراج کا منصوبہ بنایا گیا۔ مسجد کے کھلے صحن کے گرد موجود ایوانات میں سب سے بڑا ایوانِ قبلہ ہے، جس میں کئی سنگِ مرمر کے ستون موجود ہیں، جو رومی دور کے ہیں۔ ان ستونوں کی بنیادیں صحن کے فرش سے تقریباً تین فٹ نیچے چلی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، مسجد میں سیاہ پتھر اور مرمریں ستون بھی شامل ہیں۔ یہ مسجد طویل مرمت کے بعد 8 مئی 2009 کو دوبارہ نمازیوں کے لیے کھول دی گئی، جو دمیاط کے قومی دن کے موقع پر ہوا۔ یہ وہ دن ہے جب دمیاط کے عوام نے صلیبی حملے کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی، جس کی قیادت فرانس کے بادشاہ لوئس نہم کر رہا تھا۔

تصاویر

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ "مسجد عمرو بن العاص بدمياط ثاني أقدم المساجد المبنية بمصر.. صور"۔ اليوم السابع۔ 18 اپریل 2023۔ 2024-03-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-03-23
  2. ↑ "Amr ibn al-Aas Mosque: Where Louis IX's Son was Baptized - ConnollyCove" (بزبان برطانوی انگریزی). Archived from the original on 2024-06-17. Retrieved 2025-03-01.
  3. ↑ سهاد الخضري (28 اپریل 2021)۔ "جوامعنا.. «تحول لكنيسة مرتين».. جامع عمرو بن العاص بدمياط ثاني مسجد بإفريقيا"۔ الوطن (بزبان عربی)۔ 2025-01-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-03-23